ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 317

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۷ جلد پنجم گزار نے چاہئیں اور یہاں آکر ڈیر الگا دینا چاہیے اور اس شعر پر کار بند ہونا چاہیے۔ چو کار عمر ناپید است بارے این اولی که روز واقعه پیش نگار خود باشم یہاں تو مقولہ یک درگیر و محکم گیر پر عمل کرنا ضروری ولازمی ہے ہر ایک کے لیے مناسب و واجب ہے کہ حسب استطاعت اپنے نفس کے ساتھ جہاد کر کے پوری سعی کرے تا کہ ٹھیک وقت پر سفر منزل محبوب حقیقی کے لیے طیاری کر سکے بغیر جوش محبت کے اس راہ پر قدم مارنا بڑا مشکل وقت پر سر منزل محبوب حقیقی کے لیے طاری کر سکے بغیر جوش محبت ۔ ہے اور ساتھ ہی اس پر استقلال و استقامت ضروری ہے جب یہ امر حاصل ہو جاوے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جذب القلوب کا عمل بتدریج خود بخود شروع ہو جاوے گا جس سے صادقین کی محبت کی توفیق ملے گی اور اس صیقل تعشق الہی سے زنگار آئینہ دل محو ہو کر تزکیہ نفس و تطہیر قلب نصیب ہوگا۔ مگر تلاش حق کا بیج بونا مقدم ہے جس سے صدق وصفا کا پر ثم نخل پیدا ہوتا ہے اور محبت ذات ربانی کی آب پاشی سے نشو و نما پاتا ہے۔ بمنزل جانان رسد همان مردے که همه دم در تلاش او دوان باشد آپ اپنی پہلی حالت کو یاد کریں جبکہ آغاز سال ۱۸۸۶ء میں صرف حِسْبَةً لِلہ کا جوش آپ کو کشاں کشاں یہاں لایا تھا اور آپ پا پیادہ افتان خیزاں اس قدر دور فاصلہ سے پہلے قادیان پہنچے تھے اور جب ہم کو اس جگہ نہ پایا تو اسی بیتابی و بیقراری کے جوش میں تگا پوکر کے پیدل ہی ہمارے پاس ہوشیار پور جا پہنچے تھے اور جب وہاں سے واپس ہونے لگے تو اس وقت ہم سے جدا ہونا آپ کو بڑا شاق گذرتا تھا اب تو ایسا وقت آگیا ہے کہ آپ کو آگے ہی قدم مارنا چاہیے نہ یہ کہ الٹا تساہل و تکاہل میں پڑیں۔ اب تو زمانہ بزبانِ حال کہہ رہا ہے اور نشانات و علامات سماوی بآواز دہل پکار رہے ہیں کہ رہا ے چنیں زمانہ چنیں دور ایں چنیں برکات تو بے نصیب روی وه چه این شقا باشد فلک قریب زمین شد ز بارش برکات کجاست طالب حق تا یقین فزا باشد