ملفوظات (جلد 5) — Page 316
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۶ جلد پنجم ۴ نومبر ۱۹۰۳ء (بوقت ظهر) تقریر حضرت اقدس علیہ السلام حضرت اقدس امام صادق علیہ الصلوۃ والسلام بوقت ظهر حسب معمول اندر سے مسجد مبارک میں تشریف لائے اور مسند کو زیب نشست بخش کر مولوی برہان الدین صاحب جہلمی سے مخاطب ہو کر دریافت فرمایا کہ او آپ کے چہرہ پر آثار پژمردگی و پریشانی و حیرانی کیسے نظر آ رہے ہیں؟ عرض کی کہ حضور وجہ تو صرف یہی ہے کہ اب دوسرا کنارہ یعنی جہانِ ثانی نظر آرہا ہے کیونکہ بوجہ پیرانہ سالی کے اب عالم آخرت کا ہی خیال رہتا ہے۔ گنتی ہی کے دن اب باقی سمجھنے چاہئیں مزید برآں عارضہ ضعف اور بھی اس کے سریع الوقوع ہونے پر شاہد ہے اور ضعف کا یہ باعث ہے کہ ابتدا میں کچھ مراقبه ونفی و اثبات کا کسی قدر شغل رکھا ہے جس سے یہ عارضہ ضعف لاحق حال ہو گیا ہے۔ کا یہ من کر حضرت اقدس نے ایک معانی خیز اور پر معارف لب ولہجہ کے ساتھ فرمایا کہ پر جب یہ حالت ہے تب تو ضرور ہی ان تمام بقیہ ایام زندگی قادیان میں گزاریں عارضی تیرات کو یکسو کھا کر صفا ر صرف ایک ہی آستانہ بارگاہ ایزدی پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ ہر ایک سعادت کیش و متلاشی حق روح کا یہی مامن اور یہی ملجا و ماوی ہے اور چونکہ یہ مسلّمہ امر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے مقرب کے پاس رہنا گویا ایک طرح سے خود خدا تعالیٰ کے پاس رہنا ہوتا ہے اس واسطے اب آپ کو باقی ایام زندگی اس جگہ قادیان میں لے یہ تقریر مولوی برہان الدین صاحب کو مخاطب فرما کر فرمائی اور اس تقریر کے نوٹ چوہدری اللہ داد خانصاحب کلرک صدر شاہ پور نے لئے اور بعد ازاں ان نوٹوں کو اپنے الفاظ میں مرتب کر کے موقع بہ موقع حضرت اقدس علیہ السلام کے اشعار بھی چسپاں کئے ۔ (مرتب)