ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 241

ملفوظات حضرت مسیح موعود کچھ اس کے لیے جائز ہو جاتا ہے؟ ۲۴۱ جلد پنجم پھر آپ ہی جواب دیا ہے کہ یہ بات نہیں کہ وہ اباحتی ہو جاتا ہے بلکہ بات اصل یہ ہے کہ عبادت کے انتقال اس سے دور ہو جاتے ہیں اور پھر تکلف اور تصنع سے کوئی عبادت وہ نہیں کرتا بلکہ عبادت ایک شیریں اور لذیذ غذا کی طرح ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور مخالفت اس سے ہو سکتی ہی نہیں اور خدا تعالیٰ کا ذکر اس کے لیے لذت بخش اور آرام دہ ہوتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں کہا جاتا ہے۔ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ( حم السجدۃ: ۴۱) اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ نواہی کی اجازت ہو جاتی ہے۔ نہیں بلکہ وہ خود ہی نہیں کر سکتا اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی خصی ہو اور اس کو کہا جاوے کہ تو جو مرضی ہے کہ وہ کیا کر سکتا ہے؟ اس سے فسق و فجور مراد لینا کمال درجہ کی بے حیائی اور حماقت ہے یہ تو اعلیٰ درجہ کا مقام ہے جہاں کشف حقائق ہوتا ہے۔ صوفی کہتے ہیں اسی کے کمال پر الہام ہوتا ہے اس کی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا ہو جاتی ہے اس وقت اسے یہ حکم ملتا ہے۔ یہ پس انتقال عبادت اس سے دور ہو کر عبادت اس کے لیے غذا شیریں کا کام دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ هُذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ (البقرة: ۲۶) فرمایا گیا ہے۔ فرمایا۔ گناہ سے نجات محض خدا تعالیٰ کے فضل اور تصرف سے گناہ سے نجات کیسے ہو؟ ملتی ہے جب وہ تصرف کرتا ہے اور دل میں وعظ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر ایک نئی قوت انسان کو ملتی ہے جو اس کے دل کو گناہ سے نفرت دلاتی ہے اور نیکیوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ ایک شخص نے اپنی تکالیف اور ابتلاؤں کا ذکر کیا۔ ایمان کے لئے ابتلا ضروری تھکے ہے فرمایا۔ جب اللہ تعالی کسی آسمانی سلسلہ کو قائم کرتا ہے تو ابتلا اس کی جزو ہوتے ہیں جو اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے کہ اس پر (بقیہ حاشیہ ) کی مشیت اس کی اپنی مشیت ہوتی ہے اور جیسے ایک انسان کو خصی کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ زنا کاری وغیرہ حرکات کا مرتکب ہی نہیں ہو سکتا ویسے ہی یہ شخص خصی کر دیا جاتا ہے اور اس سے کوئی بدی نہیں ہو سکتی ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ اگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۳۵)