ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 240

ملفوظات حضرت مسیح موعود الد ۔ جو یہ جکڑا ہوا ہے اس سے رہائی بغیر موت کے ممکن ہی نہیں ۔ جلد پنجم اسی موت کی طرف اشارہ کر کے قرآن شریف میں فرمایا ہے مقامِ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ وَاعْبُدُ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (الحجر: ۱۰۰) اس جگہ یقین سے مراد موت بھی ہے یعنی انسان کی اپنی ہوا و ہوس پر پوری فنا طاری ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت رہ جاوے اور وہ یہاں تک ترقی کرے کہ کوئی جنبش اور حرکت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نہ ہو۔ سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ موت انسان پر وارد ہو جاتی ہے تو سب عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں ۔ ہے اور پھر خود ہی سوال کرتے ہیں کہ کیا انسان اباحتی ہو جاتا ہے اور سب (بقیہ حاشیہ ) ہوا کہ اس کے ہاتھ سے دوخون ہوئے ۔ آخر اس نے طوطے کو پنجرہ سے نکال کر باہر پھینک دیا تو وہ طوطا جو پنجرہ سے مردہ سمجھ کر پھینک دیا تھا اڑ کر دیوار پر جا بیٹھا اور کہنے لگا کہ دراصل نہ وہ طوطا مر ا تھا اور نہ میں ۔ میں نے تو اس سے راہ پوچھی تھی کہ اس قید سے آزادی کیسے حاصل ہو؟ سو اس نے مجھے بتایا کہ آزادی تو مر کر حاصل ہوتی ہے پس میں نے بھی موت اختیار کی تو آزاد ہو گیا۔ البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ اگست ۱۹۰۳ء صفحه ۲۳۵) ل البدر میں ہے۔ اس پنجرہ سے بھی وہ نہیں نکل سکتا جب تک کہ موت کو قبول نہ کرے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ اگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۳۵) البدر سے ۔ اس پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ کیا ایسی موت کے آنے کے بعد انسان عبادت نہ کرے اور بے شک بدیوں میں مبتلا رہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس موت کے بعد یعنی جیسا کہ انسان نفس امارہ سے جنگ کر کے اس پر غالب آجاتا ہے اور فتح پالیتا ہے تو پھر عبادت اور نیک اعمال کا بجالا نا اس کے لیے ایک طبعی امر ہوتا ہے جیسے انسان بلا تکلف میٹھی میٹھی مزہ دار چیزیں کھاتا رہتا ہے اور اسے لذت آتی رہتی ہے۔ ایسے ہی بلا تکلف نیک اعمال اس سے سرزد ہوتے رہتے ہیں اور اس کی تمام لذت اور خوشی خدا تعالیٰ کی عبادت میں ہوتی ہے اور جب تک وہ نفس سے جنگ کرتا رہتا ہے تبھی تک اسے ثواب بھی ملتا ہے لیکن جب اس نے موت حاصل کر لی اور نفس پر فتح پالی تو پھر تو جنت میں داخل ہو گیا اب ثواب کا ہے کا؟ یہی وہ جنت ہے جو انسان کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے اور قرآن شریف میں دو جنتوں کا بیان ہے جیسے کہ لکھا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتُن ( الرحمن : ۴۷) یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو جنتیں ہیں ایک دنیا میں اور ایک آخرت میں ۔ دنیا والی جنت وہ ہے جو کہ اس درجہ کے بعد انسان کو حاصل ہو جاتی ہے اور اس مقام پر پہنچ کر انسان کی اپنی کوئی مشیت نہیں رہتی بلکہ خدا تعالیٰ