ملفوظات (جلد 5) — Page 16
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶ جلد پنجم چڑھنا قوت اور جرات کو چاہتا ہے۔ نہایت بڑی بھاری اور آخری بلندی مذہب کی بلندی ہوتی ہے۔ سارے زنجیروں کو انسان تو ڑسکتا ہے مگر رسم اور مذہب کی ایک ایسی زنجیر ہوتی ہے کہ اس کو کوئی ہمت والا ہی تو ڑ سکتا ہے۔ سو ہمیں اس ربط سے یہ بھی ایک بشارت معلوم ہوتی ہے کہ وہ آخر کار اس مذہب اور رسم کی بلندی کو اپنی آزادی اور جرات سے پھلانگ جاویں گے اور آخر کار اسلام میں داخل ہوتے جاویں گے اور یہی ضال کے لفظ سے بھی ٹپکتا ہے اور اس امر کی بنیادی اینٹ قیصر جرمن نے چند دن ہوئے اپنا عقیدہ عیسویت کے متعلق ظاہر کر کے رکھ دی ہے۔ یہ جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ دجال کا نا ہوگا ۔ دجال کے ” کا نا ہونے سے مراد ایک آنکھ بالکل نہ ہوگی اور دوسری میں گل ہوگا ۔ یہ ایک نہایت بار یک استعارہ ہے۔ یعنی اس کی ایک آنکھ ( قرآن کی آنکھ ) تو بالکل نہ ہوگی ۔ اس طرف سے تو وہ بالکل اندھا اور کالمیت ہوگا اور دوسری توریت والی سو وہ بھی کافی ہوگی اس میں بھی گل ہو گا یعنی اس کی تعلیم پر بھی پورے طور سے کاربند نہ ہونگے ۔ چنانچہ واقعہ نے کیسا صاف بتا دیا ہے کہ یہ اسی طرح ہے اور آنحضرت کی پیشگوئی کیسی صاف طور سے پوری ہوئی ہے۔ عیسویت کے ابطال کے واسطے تو ایک دانا آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ ان کے اس عقیدے پر نظر کرے کہ خدا مر گیا ہے بھلا کوئی سوچے کہ کبھی خدا بھی مرا کرتا ہے۔ اگر یہ کہیں کہ خدا کا روح نہیں بلکہ جسم مرا تھا تو ان کا کفارہ باطل جاتا ہے۔ ۴ را پریل ۱۹۰۳ء (بوقت میر) ایک شخص کے سوال پر فرمایا کہ طلاق طلاق ایک وقت میں کامل نہیں ہو سکتی ۔ طلاق میں تین طہر ہونے ضروری ہیں ۔ فقہاء ل الحکم جلدے نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۳ ، ۱۴