ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 15

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵ جلد پنجم رہے گی ۔ اسی واسطے وہ اس وقت ان کی وہ درخواست لینا مصلحت کے خلاف جانتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی مرد اور عورت کے الگ ہونے کے واسطے ایک کافی موقع رکھ دیا ہے یہ ایک ایسا موقع ہے کہ طرفین کو اپنی بھلائی برائی کے سوچنے کا موقع مل سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے الطَّلَاقُ مَرَّتْنِ (البقرة : ۲۳٠) یعنی دو دفعہ کی طلاق ہونے کے بعد یا اسے اچھی طرح سے رکھ لیا جاوے یا احسان سے جدا کر دیا جاوے۔ اگر اتنے لمبے عرصے میں بھی ان کی آپس میں صلح نہیں ہوتی تو پھر ممکن نہیں کہ وہ اصلاح پذیر ہیں۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ وتر کس طرح پڑھنے چاہئیں۔ ایک اکیلا بھی وتر کیسے پڑھے جائیں جائز ہے یا نہیں؟ ہے یا فرمایا کہ اکیلا وتر تو ہم نے کہیں نہیں دیکھا۔ وتر تین ہیں۔ خواہ دورکعت پڑھ کر سلام پھیر کر تیسری رکعت پڑھ لو۔ خواہ تینوں ایک ہی سلام سے درمیان میں التحیات بیٹھ کر پڑھ لو۔ ایک وتر ٹھیک نہیں۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ حضور مخالفوں سے جو ہمیں اور حضور کو سخت گالی گلوچ مخالفوں کو سلام کہنا نکالتے ہیں اورسخت ست کہتے ہیں ان سے اسلام سے السلام علیکم لینا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ مومن بڑا غیرت مند ہوتا ہے کیا غیرت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ تو گالیاں دیں اور تم سے السلام علیکم کرو؟ ہاں البتہ خرید و فروخت جائز ہے۔ اس میں حرج نہیں کیونکہ قیمت دینی اور ان مال لینا کسی کا اس میں احسان نہیں ۔ ہمیں کئی بار اس آیت کی طرف توجہ ہوئی ہے اور اس میں مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ کی تفسیر سوچتے ہیں کہ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الانبياء: ۹۷)۔ اس کا ایک تو یہ مطلب ہے کہ ساری سلطنتیں ، ریاستیں اور حکومتیں ان سب کو یہ اپنے زیر کر لیں گے اور کسی کو ان کے مقابلے کی تاب نہ ہوگی ۔ دوسرے معنے یہ ہیں کہ حلب کے معنے ہیں بلندی، نسل کے معنے ہیں دوڑنا۔ یعنی بلندی پر سے دوڑ جاویں گے محل عمومیت کے معنے رکھتا ہے یعنی ہر قسم کی بلندی کو کود جاویں گے۔ بلندی پر