ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 220

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۰ جلد پنجم ۲۴ جولائی ۱۹۰۳ء دربار شام) ایک بھائی نے عرض کی کہ حضور بکرا وغیرہ جانور جو غیر اللہ تھانوں اور قبروں پر چڑھاوے قبروں پر چڑھائے جاتے ہیں پھر وہ فروخت ہوکر ذبح ہوتے ہیں کیا ان کا گوشت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ شریعت کی بنا نرمی پر ہے سختی پر نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ (البقرۃ: ۱۷۴) سے یہ مراد ہے کہ جو ان مندروں اور تھانوں پر ذبح کیا جاوے یا غیر اللہ کے نام پر اور ذبح کیا جاوے اس کا کھانا تو جائز نہیں ہے لیکن جو جانوربیع و شرا میں آجاتے ہیں اس کی حلت ہی سمجھی جاتی ہے زیادہ تفتیش کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔ لے دیکھو حلوائی وغیرہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کا ذکر بھی کراہت اور نفرت پیدا کرتا ہے لیکن ان کی بنی ہوئی چیزیں آخر کھاتے ہی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ شیر ینیاں طیار کرتے ہیں اور میلی کچیلی دھوتی میں بھی ہاتھ مارتے جاتے ہیں اور جب کھانڈ طیار کرتے ہیں تو اس کو پاؤں سے ملتے ہیں چوڑھے چمار گڑ وغیرہ بناتے ہیں اور بعض اوقات جو ٹھے رس وغیرہ ڈال دیتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں ان سب کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح پر اگر تشد د ہو تو سب حرام ہو جاویں اسلام نے مالا يطاق تکلیف نہیں رکھی ہے بلکہ شریعت کی بنانرمی پر ہے۔ اس کے بعد سائل مذکور نے پھر اسی سوال کی اور بار یک جزئیات پر سوال شروع کئے ۔ فرمایا۔ اللہ تعالی نے لا تَسْلُوا عَنْ أَشْيَاء ( المائدة : ۱۰۲) بھی فرمایا ہے بہت کھودنا اچھا نہیں ہوتا۔ متقیوں کو اللہ تعالیٰ ابتلاؤں سے بچاتا ہے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ متقی کو لے البدر میں مزید لکھا ہے۔ ” کیونکہ اب جگن ناتھ وغیرہ مقامات پر لاکھوں حیوان چڑھتے ہیں اور روز مرہ فروخت ہو کر ذبح ہوتے ہوں گے۔ اگر اُن کا کھانا حرام ہو تو پھر تو تکلیف مالا طاق ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۷ را گست ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۲۶)