ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 12

ملفوظات حضرت مسیح موعود الم جلد پنجم حضرت عیسی ہی آویں گے۔ لکیر کے فقیر ہیں ۔ باپ دادا اور مولوی جو اس بات کی تعلیم دیتے ہوئے خواہ قرآن شریف کے مخالف ہی ہو وہ اسی ہندوؤں کی گنگا کی طرح اس اعتقاد کو نہ ترک کریں نہ کرنے کے خواہ کوئی دلیل ہو یا نہ ہو۔ ان لوگوں کو تو اپنے گھر کا حال بھی معلوم نہیں کہ ان کے اس اعتقاد نے اسلام کو کیسا ضعف پہنچایا ہے عیسائی جب کسی کو مرتد کرنے پر آتے ہیں تو یہی حجت پکڑتے ہیں کہ تمہارا نبی مردہ اور ہمارا زندہ اور آسمان پر موجود ہے۔ اب بتاؤ کہ ان دونوں میں سے کون اچھا اور خدا کا پیارا ہے اور یہ نکال کر دکھا دیتے ہیں مسلمانوں ہی کی کتابوں سے اب قریباً ہر ایک فرقہ میں سے الگ الگ ملا جلا کر ۲۹ لاکھ کے قریب آدمی مرتد ہو چکا ہے۔ کیا سید اور کیا پٹھان کیا قریش اور کیا مغل ۔ ہر قوم اس وبا میں ہلاک ہوتی ہے۔ ایسے ایسے لوگ جو فخر اسلام کہنے کے مستحق بن جانے کے قابل تھے وہ اب بے دین ہو کر لی الہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں اور پھر اسی پر ابھی تمام نہیں بلکہ وہ جان سے مال سے عزت و آبرو سے، عورتوں سے لڑکیوں سے اس امر کے لیے کوشاں ہیں کہ کسی طرح دنیا سے اسلام کا نشان مٹادیں۔ بھلا اگر یہی وہ فتان لوگ نہیں تو اور کون ہوگا ؟ اس قوم کا فتنہ تو ان مسلمانوں کے بناوٹی دجال کے فتنہ سے بھی کہیں بڑھ گیا۔ بھلا یہ بتاویں تو سہی کہ اس قوم کی جس کا فتنہ دجال سے بھی زیادہ ہے خبر کہاں دی گئی ہے۔ قرآن شریف نے تو اسی واسطے دجال کا نام نہیں لیا بلکہ وَلَا الضَّاتِین کہا جس سے مراد یہی قوم نصاری ہے وَلَا الدَّجال کیوں نہ کہا۔ اصل امر یہی ہے کہ یہی وہ قوم ہے جس سے تمام انبیاء اپنی اپنی امت کو ڈراتے آئے ہیں۔ ان لوگوں کے خیالات کی بنا احادیث موضوعہ پر ہے جو قرآن شریف کی مہر سے خالی ہیں ۔ مگر ہم قرآن شریف کو ان احادیث کی خاطر چھوڑ نہیں سکتے۔ قرآن شریف بہر حال مقدم ہے۔ بھلا قرآن شریف کو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جمع کیا لکھوایا اور پھر نمازوں میں بار بار پڑھ کر سنایا۔ کیا اگر احادیث بھی ویسی ہی ضروری ہیں تو ان میں سے بھی کسی کو اسی طرح جمع کیا اور بار بارھنا یا اور دور کیا؟ ہر گز نہیں اور جب نہیں کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرض منصبی میں کوتاہی کی؟ ہر گز نہیں۔ بلکہ صحیح امر یہی ہے کہ قرآن شریف ہی آپ لائے تھے اور