ملفوظات (جلد 5) — Page 11
ملفوظات حضرت مسیح موعود 11 جلد پنجم نیز پرانا گذشتہ تجربہ بھی اس امر کا کافی شاہد تھا کہ صرف بارہ آدمی مدت کی کوشش سے طیار کئے۔ آخر وہ بھی یوں الگ ہوئے کہ کسی نے لعنت کی اور کسی نے تیس روپے کے عوض دشمن کے ہاتھ میں دے دیا۔ پھر مرنے کے بعد جب آنحضرت کی روح آسمان پر گئی تو پھر وہ حریف موجود تھے کہ وہ تو آسمان میں مع جسم عنصری تشریف رکھتے ہیں اور جناب کا جسم ہزاروں من مٹی کے نیچے پڑا ہے اور پھر اسی پر ختم نہیں ۔ آخر کار ان ان کی کی امت میں میں وہ وہ پھر آویں گے اور اور چالیس سال تک ان پر حکومت کریں گے اور ان سے بیعت لیں گے۔ بھلا غور تو کرو کہ یہ تو ہیں نہیں تو اور کیا ہے۔ پھر بات اور ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن شریف میں یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں تیری اُمت میں سے تیری امت کی اصلاح کے واسطے خلیفے بھیجتا رہوں گا۔ مگر آخر اس وعدہ کا ذرا بھی پاس نہ کیا اور ایک ایسی قوم میں سے جس کے متعلق اس نے وعدہ کر لیا ہوا تھا کہ اس قوم پر میرا غضب نازل ہو چکا ہے میں ان پر کبھی کوئی روحانی اور جسمانی فضل اور نعمت ہرگز نازل نہ کروں گا مگر آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وعدہ خلافی فرما کر اسے بھیجا اور اپنے قانون کو بھی تو ڑا۔ کیا یہ کوئی گوارا کر سکتا ہے کہ خدا پر وعدہ خلافی عائد ہو ۔ ہر گز نہیں إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (ال عمران: ۱۰) ہماری تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ اسی عیسیٰ کو اتار کر کریں گے کیا ؟ آخران کے قومی تو وہی ہوں گے جو پہلے تھے۔ پہلے کیا کیا تھا جو اب کر لیں گے۔ ایک ذلیل سی معدودے چند ایک قوم تھی ان کی اصلاح بھی نہ ہوئی۔ لکھا ہے کہ ایک دفعہ ان سے پانسو آدمی مرتد ہو گئے تھے۔ یہ لوگ اگر حضرت موسیٰ کے دوبارہ آنے کی امید رکھتے تو کچھ موزوں بھی تھا کیونکہ وہ صاحب عظمت اور جبروت تو تھے ان میں شجاعت بھی تھی ۔ اب یہ عیسی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ پھر مشکل یہ ہے کہ عادت کا جانا محال ہے ان کو مار کھانے اور بزدلی کی عادت ہو گئی ہوئی تھی وہ اگر دجال سے جنگ کریں گے تو کس طرح ؟ ادھر ان مسلمانوں کی بھی یہ عادت ہو گئی ہے کہ