ملفوظات (جلد 5) — Page 174
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۴ جلد پنجم چاہیے کہ ہر وقت رضاء الہی کو ماننے اور ہر ایک رضا کے سامنے سرتسلیم خم کرنے میں دریغ نہ کرے۔ کون ہے جو عبودیت سے انکار کر کے خدا کو اپنا محکوم بنانا چاہتا ہے؟ کو اپنامحکوم تعلقات الہی ہمیشہ پاک بندوں سے ہوا کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا ہے اِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفی (النجم : ۳۸) لوگوں پر جو احسان کرے ہرگز نہ جتلاوے ۔ جو ابراہیم کے صفات رکھتا ہے ابراہیم بن سکتا ہے۔ ہر ایک گناہ بخشنے کے قابل ہے مگر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کو معبود و کارساز جاننا ایک نا قابل عفو گناہ ہے إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان: (۱۴) لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ (النساء:۴۹) یہاں شرک سے یہی مراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جاوے بلکہ یہ ایک شرک ہے کہ اسباب کی پرستش کی جاوے اور معبودات سے دنیا پر زور دیا جاوے اسی کا نام ہی شرک ہے اور معاصی کی مثال تو حقہ کی سی ہے کہ اس کے چھوڑ دینے سے کوئی دقت و مشکل کی بات نظر نہیں آتی مگر شرک کی مثال افیم کی ہے کہ وہ عادت ہو جاتی ہے جس کا چھوڑ نا محال ہے۔ بعض کا یہ خیال بھی ہوگا کہ انقطاع الی اللہ کر کے تباہ ہو جاویں؟ مگر یہ سراسر شیطانی وسوسہ ہے۔ اللہ کی راہ میں برباد ہونا آباد ہونا ہے۔ اس کی راہ میں مارا جانا زندہ ہونا ہے۔ کیا دنیا میں ایسی کم مثالیں اور نظیریں ہیں کہ جو لوگ اس کی راہ میں قتل کئے گئے ہلاک کئے گئے ان کے زندہ جاوید ہونے کا ثبوت ذرہ ذرہ زمین میں ملتا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہی دیکھ لو کہ سب سے زیادہ اللہ کی راہ میں برباد کیا اور سب سے زیادہ دیا گیا۔ چنانچہ تاریخ اسلام میں پہلا اخلیفہ حضرت ابو بکر ہی ہوا ۔ ابو بکر ہی ہوا ۔ ہے ، سے (بقیہ حاشیہ ) لیے تیار رہے اور کسی مصیبت کی پروانہ کرے مگر ایک پاجی سرکش عبودیت سے تو انکار کرتا ہے اور خدا البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۲۶ جون ۱۹۰۳ ء صفحه (۱۷۸) کو اپنا محکوم بنانا چاہتا ہے ۔“ الحکم میں ایسا ہی درج ہے مگر دراصل یہ لفظ محبو بات معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ البدر میں بھی محبوبات ہی لکھا ہے۔ (صح) البدر کے الفاظ یہ ہیں ۔ ” بہت کا یہ بھی خیال ہو گا کہ کیا ہم انقطاع الی اللہ کر کے اپنے آپ کو تباہ کر لیویں؟ مگر یہ ان کو دھوکا ہے کوئی تباہ نہیں ہوتا۔ حضرت ابو بکر کو دیکھ لواس نے سب کچھ چھوڑا پھر وہی سب سے اوّل سے اول تخت پر بیٹھا۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۲۶ جون ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۷۸) سے الحکم جلد ۷ نمبر ۲۴ مورخه ۳۰ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۱،۱۰