ملفوظات (جلد 5) — Page 173
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۳ جلد پنجم چھوڑ دیئے جاویں گے اور ان کو ابتلاؤں میں نہیں ڈالا جاوے گا۔ پھر یہ لوگ بلاؤں سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ ہر ایک شخص کو جو ہمارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے جان لینا چاہیے کہ جب تک آخرت کے سرمایہ کا فکر نہ کیا جاوے کچھ اور نہ بنے گا اور یہ ٹھیکہ کرنا کہ ملک الموت میرے پاس سے نہ پھٹکے، میرے کنبہ کا نقصان نہ ہو، میرے مال کا بال بیکا نہ ہو، ٹھیک نہیں ہے۔ خود شرط وفا دکھلاوے اور ثابت قدمی وصدق سے مستقل رہے۔ اللہ تعالی مخفی راہوں سے اس کی رعایت کرے گا اور ہر ایک قدم پر اس کا مددگار بن جاوے گا۔ انسان کو صرف پنجگانہ نماز اور روزوں وغیرہ وغیرہ احکام کی ظاہری بجا آوری پر ہی ناز نہیں کرنا چاہیے۔ نماز پڑھنی تھی پڑھ لی، روزے رکھنے تھے رکھ لیے، زکوۃ دینی تھی دے دی وغیرہ وغیرہ مگر نوافل ہمیشہ نیک اعمال کے مستم و مکمل ہوتے ہیں اور یہی ترقیات کا موجب ہوتا ہے۔ مومن کی تعریف یہ ہے کہ خیرات و صدقہ وغیرہ جو خدا نے اس پر فرض ٹھہرایا ہے کے بجالا وے اور ہر ایک کار خیر کے کرنے میں اس کو ذاتی محبت ہو اور کسی تصنع و نمائش و ریا کو اس میں دخل نہ ہو۔ یہ حالت مومن کی اس کے سچے اخلاص اور تعلق کو ظاہر کرتی ہے اور ایک سچا اور مضبوط رشتہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ پیدا کر دیتی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اُس کی زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور اس کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ کام کرتا ہے۔ الغرض ہر ایک فعل اُس کا اور ہر ایک حرکت و سکون اس کا اللہ ہی کا ہوتا ہے۔ اس وقت جو اس سے دشمنی کرتا ہے وہ خدا سے دشمنی کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے کہ میں کسی بات میں اس قدر تر ڈر نہیں کرتا جس قدر کہ اس کی موت میں ۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مومن اور غیر مومن میں ہمیشہ فرق رکھ کے دیا جاتا ہے۔ غلام کو لے البدر میں یوں لکھا ہے۔ ”مومن کی تعریف یہ ہے کہ خیرات اور صدقہ وغیرہ جو کہ خدا نے اس پر فرض تو نہیں کئے مگر وہ اپنی ذاتی محبت سے ان کو بجالاتا ہے اس وقت اس کا ایک خاص تعلق خدا سے ہوتا ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۲۶ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۷) ور البدر میں ہے ۔ ” قرآن شریف میں بھی لکھا ہے کہ مومن اور غیر مومن میں ہمیشہ فرقان ہوتا ہے۔ مگر ایک کم بخت جلد باز خدا کے فرقان کو پسند نہیں کرتا بلکہ نفس کے فرقان کو پسند کرتا ہے۔ غلام کا کام یہ ہے کہ وہ ہر وقت عبودیت کے