ملفوظات (جلد 5) — Page 171
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴ جون ۱۹۰۳ء ( در بار شام) ۱۷۱ جلد پنجم فرمایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ کو اللہ تعالیٰ سے سچارشتہ اگر دیکھا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ بڑے بڑے سیدھے سادے تھے جیسے کہ ایک برتن قلعی کرا کر صاف اور ستھرا ہو جاتا ہے ایسے ہی ان لوگوں کے دل تھے جو کلام الہی کے انوار سے روشن اور کدورات نفسانی کے زنگ سے بالکل صاف تھے گو یا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زلها ( الشمس: ۱۰) کے سچے مصداق تھے ۔ لو مجھے خوب معلوم ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت میں کثرت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ اگر ہماری دنیا کو کسی طرح سے کوئی جنبش آئی تو ہم کدھر جاویں گے مگر تعجب تو یہ ہے کہ ایک طرف تو ہمارے ہاتھ پر اقرار کرتے ہیں کہ ہم دنیا پر دین کو مقدم سمجھیں گے اور دوسری طرف دنیا اور مافیہا میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ دنیا کی خاطر ہر ایک دینی نقصان برداشت کرنا گوارا کرتے ہیں۔ ذرا سا کوئی کنبہ میں بیمار ہو جاوے یا بیل بکری ہی مر جاوے تو جھٹ بول اُٹھتے ہیں کہ ہیں یہ کیا ہوا ؟ ہم تو مرزا صاحب کے مرید تھے ہمارے ساتھ کیوں یہ حادثہ واقعہ ہوا۔ ہے حالانکہ یہ خیال ان کا خام ہے وہ اس سچے رشتے سے جو اللہ تعالیٰ سے باندھنا چاہیے ناواقف ہیں۔ برکاتِ الہی انسان پر اس وقت نازل ہوتے ہیں جب خدا سے مضبوط رشتہ باندھا جاوے۔ جیسے رشتہ داروں کو ل البدر سے ۔ جب ایک برتن کو مانج کر صاف کر دیا جاتا ہے پھر اس پر قلعی ہوتی ہے اور پھر نفیس اور مصفا کھانا اس میں ڈالا جاتا ہے۔ یہی حالت ان کی تھی ۔ اگر انسان اسی طرح صاف ہو اور اپنے آپ کو قلعی دار برتن کی طرح منور کرے تو خدا تعالیٰ کے انعامات کا کھانا اس میں ڈال دیا جاوے۔ لیکن اب کس قدر انسان ہیں جو ایسے ہیں اور آیت قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا ( الشَّمس: ۱۰) کے مصداق ہیں ۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۲۶ رجون ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۷۷) میں البدر میں ہے۔ اگر کوئی طاعون - اگر کوئی طاعون سے مر جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ وہ تو مرید تھا وہ کیوں مرا ؟ اب دیکھ لو کہ اس زمانہ البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۶ رجون ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۷۷) اور اُس زمانہ میں کس قدر فرق ہے۔“