ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 170

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۰ جلد پنجم ۔L سائل نے عرض کی کہ موسیٰ نے پھر کیوں جرات کی حالانکہ وہ نبی تھے؟ فرمایا کہ اسی لیے تو یہ قصہ لکھا ہے کہ وہ نبی تھا اور تم تو امتی ہو تم کو تو اور بھی ڈر کر قدم رکھنا چاہیے۔ یہ اس طرح کے امور ہوتے ہیں کہ ظاہری شریعت کو منسوخ کر دیتے ہیں ۔ کر دیتے ہیں۔ مولانا روم نے ایسی ہی ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک طبیب نے ایک کنیز کو ایسے طریق سے ہلاک کر دیا کہ پتا نہ لگا۔ مسہل وغیرہ ایسی ادویہ دیتا رہا کہ وہ کمزور ہو ہو کر مر گئی۔ تو پھر اس پر لکھا ہے کہ اس پر قتل کا جرم ہے نہ ہوگا کیونکہ وہ تو مامور تھا۔ اس نے اپنے نفس سے اسے قتل نہیں کیا بلکہ امر سے کیا۔ اسی طرح ملک الموت جو خدا جانے کس قدر جانیں روز ہلاک کرتا ہے کیا اس پر مقدمہ ہو سکتا ہے؟ وہ تو مامور ہے اسی طرح ابدال بھی ملائکہ کے رنگ میں ہوتے ہیں۔ خدا ان سے کئی خدمات لیتا ہے۔ پیمانہ شریعت سے ہر ایک امر کو نا پنا ا پنا غلطی ہوتی ہے۔ سے ہے له الحکم میں یہ عبارت یوں ہے ۔ اس سوال کا جواب کہ موسیٰ علیہ السلام نے اعتراض کرنے میں کیوں جرات کی یہ بہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان ادب اسرار الہی کے دریافت کرنے میں ایک عظیم الشان نبی کے ذریعہ سکھایا کہ جب وہ نبی صاحب شریعت با وجود عالی مرتبہ ہونے کے اسرار الہی میں ادب کی طرف راہبر کئے گئے تو تم اُمتی ہو کر بہت ڈر کر قدم رکھو۔ یہ ایسے امور ہیں کہ ظاہری شریعت کو تو منسوخ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مگر دراصل وہ شریعت کے اسرار ہوتے ہیں جس کی کند در از کو معلوم کرنا انسان کا کام نہیں۔ جب تک کہ وہ علام الغیوب اپنے فضل و کرم سے خود مطلع نہ کرے۔“ الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵، ۱۶) الحکم سے ۔ واجب القتل نہ ٹھیرا اور نہ قصاص لازم آیا اس لیے کہ وہ مامور تھا ۔“ الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخہ ۲۴ جون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۶) سے الحکم میں ہے۔ ” پیمانہ شریعت ظاہری سے ہر ایک آمر کو ما پنا غلطی : لو ما پنا غلطی ہوتی ہے ۔“ الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۶) ه البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹ جون ۱۹۰۳ صفحه ۱۷۰ ۱۷۱