ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 5

ملفوظات حضرت مسیح موعود ♡ جلد پنجم تو یا درکھو کہ بڑے ثواب کے مستحق ہو۔ عادت کو چھوڑنا آسان بات نہیں ۔ دیکھتے ہو کہ ایک افیمی یا جھوٹ بولنے والے کو جو عادت پڑ گئی ہوئی ہوتی ہے اس کا بدلنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے جو اپنی عادت کو خدا کے واسطے چھوڑتا ہے تو وہ بڑی بات کرتا ہے یہ نہ سمجھو کہ عادت چھوٹی ہو یا بڑی ایک عرصہ تک انسان جب گناہ کرتا ہے تو اس کے قومی کو ایک عادت اس کے کرنے کی ہو جاتی ہے۔ تو کیا تمہارے نزدیک اسے چھوڑ دینا کوئی چھوٹی بات ہے؟ جب تک کہ انسان کے اندر ہمت استقلال نہ ہو تب تک یہ دور نہیں ہو سکتی ۔ ماسوا اس کے ان عادتوں کے بدلنے میں ایک اور مشکل ہے کہ عادتوں کا پابند آدمی عیال داری کے حقوق کی بجا آوری میں سست ہوا کرتا ہے مثلاً ایک افیمی ہے تو وہ نشہ میں مبتلا ہو کر عیال داری کے لیے کیا کچھ کرے گا؟ اور اسی طرح بعض عادتیں اس قسم کی ہوتی ہیں کہ کنبہ اور اہل و عیال کے آدمی اس کے حامی ہوتے ہیں۔ اس کا چھوڑنا اور بھی دشوار تر ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص بذریعہ رشوت کے روپیہ حاصل کرتا ہے عورتوں کو اکثر علم نہیں ہوتا وہ تو اس کو اچھا جانے گی کہ میرا خاوند خوب روپیہ کماتا ہے تو وہ کب کوشش کرے گی کہ خاوند سے یہ عادت چھڑاوے تو ان عادتوں کو چھڑانے والا بجز اللہ تعالیٰ کی ذات کے کوئی نہیں ہوتا۔ باقی سب اس کے حامی ہوتے ہیں بلکہ ایک شخص جونماز روزہ کو وقت پر ادا کرتا ہے اسے یہ لوگ سست کہتے ہیں کہ کام میں حرج کرتا ہے اور جو نما ز روزہ سے غافل رہ کر زمینداری کے کاموں میں مصروف رہے اسے ہشیار کہتے ہیں اس لیے میں کہتا ہوں کہ تو بہ کرنی بہت مشکل کام ہے اور ان ایام میں تو بہت سے مقابلہ آ کر پڑے ہیں۔ ایک طرف عادتوں کو نا دوسری طرف طاعون ایک بلا کی طرح سر پر ہے اس سے بچنا ۔ اب دیکھو کون سی مشکل کو تم قبول کر سکتے ہو۔ رزق سے ڈر کر انسان کو کسی عادت کا پابند نہ ہونا چاہیے۔ اگر اس کا خدا پر ایمان ہے تو خدا رزاق ہے۔ اس کا وعدہ ہے جو تقوی اختیار کرتا ہے اس کا ذمہ وار میں ہوں مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلُ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: ۳، ۴) یعنی باریک سے بار یک گناہ جو ہے اسے خدا سے ڈر کر جو چھوڑے گا خدا ہر ایک مشکل سے اسے نجات دے گا۔ یہ اس لیے کہا ہے کہ اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں ہم تو چھوڑ نا چاہتے ہیں مگر ایسی مشکلات آکر پڑتی ہیں کہ پھر کرنا پڑ جاتا چھوڑ