ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 4

ملفوظات حضرت مسیح موعود طاعون کے کے ذکر پر فرمایا کہ لد جلد پنجم آج کل تو لوگ فرعون کی خصلت رکھتے ہیں کہ چاروں طرف سے خوف آیا تو ایمان لے آئے اور مان لیا۔ جب خوف جاتا رہا تو پھر مخالفت شروع کر دی ۔ ۳ را پریل ۱۹۰۳ء نماز جمعہ کے بعد گردو نواح کے لوگوں اور چند ایک دیگر احباب نے بیعت اقرار بیعت کے اثرات کی۔ بعد بیعت حضرت احم مدرس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی۔ والسلام ذیل کی تقریر کھڑے ہو کر فرمائی ۔ اس وقت تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے بیعت کا اقرار کیا ہے اور تمام گناہوں سے توبہ کی ہے اور خدا سے اقرار کیا ہے کہ کسی قسم کا گناہ نہ کریں گے۔ اس اقرار کی دوتا شیریں ہوتی ہیں۔ یا تو اس کے ذریعہ انسان خدا تعالیٰ کے بڑے فضل کا وارث ہو جاتا ہے کہ اگر اس پر قائم رہے تو اس سے خدا راضی ہو جائے گا اور وعدہ کے موافق رحمت نازل کرے گا اور یا اس کے ذریعے سے خدا کا سخت مجرم بنے گا کیونکہ اگر اقرار کو توڑے گا تو گویا اس نے خدا کی توہین کی اور اہانت کی ۔ جس طرح سے ایک انسان سے اقرار کیا جاتا ہے اور اسے بجا نہ لایا جاوے تو توڑنے والا مجرم ہوتا ہے ایسے ہی خدا کے سامنے گناہ نہ کرنے کا اقرار کر کے پھر توڑ نا خدا کے رو برو سخت مجرم بنا دیتا ہے۔ آج کے اقرار اور بیعت سے یا تو رحمت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی اور یا عذاب کی ترقی کی۔ اگر تم نے تمام باتوں میں خدا کی رضا مندی کو مقدم رکھا اور مدت دراز کی تمام عادتوں کو بدل دیا ل البدر سے۔ فرمایا کہ دابۃ الارض کے معنے قرآن شریف سے ہی معلوم کرنے چاہئیں ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصے میں یہ لفظ آیا ہے وہاں کیڑے ہی کے معنے ہیں۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہاتھی وغیرہ جانور ہرگز مراد (البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۱) نہیں ہے ۔“ 66 الحکم جلد ۷ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۹