ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 81

ملفوظات حضرت مسیح موعود M جلد چهارم پر ہیز کرے۔ مثلاً ایک چور ہے تو اس کو ضروری ہے کہ وہ چوری چھوڑے بدکار ہے تو بدکاری اور بدنظری چھوڑے ۔ اسی طرح نشوں کا عادی ہے تو ان سے پر ہیز کرے۔ اب جب وہ اپنی محبوب اشیاء کو ترک کرے گا تو ضروری ہے کہ اول اول سخت تکلیف اٹھاوے مگر رفتہ رفتہ اگر استقلال سے وہ اس پر قائم رہے گا تو دیکھ لے گا کہ ان بدیوں کے چھوڑنے میں جو تکلیف اس کو محسوس ہوتی ہے وہی تکلیف اب ایک لذت کا رنگ اختیار کرتی جاتی ہے کیونکہ ان بدیوں کے بالمقابل نیکیاں آتی جائیں گی اور ان کے نیک نتائج جو سکھ دینے والے ہیں وہ بھی ساتھ ہی آئیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے ہر قول و فعل میں جب خدا تعالیٰ ہی کی رضا کو مقدم کرلے گا اور اس کی ہر حرکت و سکون اللہ ہی کے امر کے نیچے ہو گی تو صاف اور بین طور پر وہ دیکھے گا کہ پورے اطمینان اور سکینت کا مزہ لے رہا ہے۔ یہ وہ حالت ہوتی ہے جب کہا جاتا ہے لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: ١٣ ) - اسی مقام پر اللہ کی ولایت میں آتا ہے اور ظلمات سے نکل کر نور کی طرف آ جاتا ہے۔ یا درکھو کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے اپنی محبوب چیزوں کو جو خدا کی نظر میں مکروہ اور اس کے منشا کے مخالف ہوتی ہیں چھوڑ کر اپنے آپ کو تکالیف میں ڈالتا ہے تو ایسی تکالیف اٹھانے والے جسم کا اثر روح پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اس سے متاثر ہو کر ساتھ ہی ساتھ اپنی تبدیلی میں لگتی ہے یہاں تک کہ کامل نیاز مندی کے ساتھ آستانہ الوہیت پر بے اختیار ہو کر گر پڑتی ہے یہ طریق ہے عبادت میں لذت حاصل کرنے کا۔ تم نے دیکھا ہو گا کہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنی عبادت میں لذت کا یہ طریق سمجھتے ہیں کہ کچھ گیت گا لئے یا یا باجے بجالئے اور اور یہی یہی ان کی کی عبادت ہوگی۔ ہوگی ۔ اس سے سے جو دھو امت کا مت کھاؤ کھاؤ۔ یہ یہ باتیں باتیں نفس کی کی لذت کا باعث ہوں تو ہوں مگر روح کے لئے ان میں لذت کی کوئی چیز نہیں۔ ان سے روح میں فروتنی اور انکساری کے جو ہر پیدا نہیں ہوتے اور عبادت کا اصل منشا گم ہو جاتا ہے۔ طوائف کی محفلوں میں بھی ایک آدمی ایسا مزا حاصل کرتا ہے تو کیا وہ عبادت کی لذت سمجھی جاتی ہے؟ یہ بار یک بات ہے جس کو دوسری قو میں سمجھ ہی نہیں سکتیں ہیں کیونکہ انہوں نے عبادت کی اصل غرض اور غایت کو سمجھا ہی نہیں ۔