ملفوظات (جلد 4) — Page 80
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۰ جلد چهارم ہے اور لذت کا معیار بھی الگ ہے۔ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اشد درجہ کی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے مگر وہ اس تکلیف کو بھی لذت ہی سمجھ لیتا ہے۔ دیکھو ٹرانسوال لے میں جو لوگ لڑتے ہیں باوجود یکہ ان میں جانیں جاتی ہیں اور عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوتے ہیں مگر قومی حمیت اور پاسداری ان کو ایک لذت اور سرور کے ساتھ موت کے منہ میں لے جا رہی ہے۔ ہے ان کو قومی حمیت اور پاسداری موت کے منہ میں خوشی کے ساتھ لے جاتی ہے۔ ادھر قوم ان کی محنتوں اور جانفشانیوں کی قدر کر رہی ہے جب کہ اغراض قومی متحد ہیں۔ پھر ان کی محنتوں کی قدر کیوں ہوتی ہے؟ ان کے دکھ اور تکالیف کی وجہ سے ۔ ان کی محنت اور جانفشانی کے باعث ۔ غرض ساری لذت اور راحت دکھ کے بعد آتی ہے۔ اسی لئے قرآن شریف میں یہ قاعدہ بتایا ہے إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الم نشرح: ۷) اگر کسی راحت سے پہلے تکلیف نہیں تو وہ راحت راحت ہی نہیں رہتی ۔ اسی طرح پر جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو عبادت میں لذت نہیں آتی۔ ان کو پہلے اپنی جگہ سوچ لینا ضروری ہے کہ وہ عبادت کے لئے کس قدر دکھ اور تکالیف اٹھاتے ہیں۔ جس جس قدر دکھ اور تکالیف انسان اٹھائے گا۔ وہی تبدیل صورت کے بعد لذت ہو جاتا ہے۔ میری مراد ان دکھوں سے یہ نہیں کہ انسان اپنے آپ کو بے جا مشقتوں میں ڈالے اور مالا يطاق تکالیف اٹھانے کا دعویٰ کرے۔ ہرگز نہیں۔ قرآن شریف میں لا يُكَلِّفُ اللهُ عبادات میں تکلیف برداشت کرنے کی حقیقت نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: ۲۸۷) آیا ہے اور رہبانیت اسلام میں نہیں ہے جس میں پڑ کر انسان اپنے ہاتھ سکھا لے یا اپنی دوسری قوتوں کو بے کار چھوڑ دے یا اور قسم قسم کی تکلیف شدیدہ میں اپنی جان کو ڈالے۔ عبادت کے لئے دکھ اٹھانے سے ہمیشہ یہ مراد ہوتی ہے کہ انسان ان کاموں سے رکے جو عبادت کی لذت کو دور کرنے والے ہیں اور ان سے رکنے میں اولاً ایسی ضرور تکلیف محسوس ہوگی ۔ اور خدا تعالیٰ کی نارضا مندیوں سے لے اس وقت ٹرانسوال کی جنگ جاری تھی ۔ ( ایڈیٹر الحکم ) الحکم جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۱ تا ۳