ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 73

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۳ جلد چهارم طبیعت علیل تھی وہ بھی جاگتے رہے۔ وہ اس وقت تشریف نہیں لاسکیں گے۔ یہ بھی ایک جہاد ہی تھا۔ رات کو انسان کو جاگنے کا اتفاق تو ہوا کرتا ہے مگر کیا خوش وہ وقت ہے جو خدا کے کام میں گزارے ) ایک صحابی کا ذکر ہے کہ وہ جب مرنے لگے تو روتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا موت کے خوف سے روتے ہو؟ کہا موت کا کوئی خوف نہیں مگر یہ افسوس ہے کہ یہ وقت جہاد کا نہیں ہے۔ جب میں جہاد کیا کرتا تھا اگر اس وقت یہ موقع ہوتا تو کیا خوب تھا۔ فرمایا که میرے اعضا تو بے شک تھک جاتے ہیں مگر دل نہیں تھکتا ۔ وہ چاہتا ہے کہ کام کئے جاؤ۔ با بوشاہ دین صاحب نے ثناء اللہ کے آنے کا ذکر کیا فرمایا کہ مولوی ثناء اللہ کا ذکر آخر لعنت لے کر چلا گیا اور جو منصوبہ وہ گھر کے لایا تھا اس میں اسے کامیابی نہ ہوئی ۔ ہم نے اس کا ذکر اور جواب وغیرہ اس عربی کتاب میں کر دیا ہے۔ اب جہلم سے واپس آ کر بشرط فرصت اردو میں لکھیں گے۔ لے ۱۵ جنوری ۱۹۰۳ء کے کو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے بوقت سیر مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔ (ایڈیٹر ) دعا بڑی عجیب چیز ہے مگر افسوس یہ ہے کہ نہ دعا کرانے والے دعا اور اس کے آداب آداب دعا سے واقف ہیں اور نہ اس زمانہ میں دعا زمانہ میں دعا کرنے والے ان طریقوں سے واقف ، جو قبولیت دعا کے ہوتے ہیں ۔ بلکہ اصل تو یہ ہے کہ دعا کی حقیقت ہی سے البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳۴ کے ایڈیٹر صاحب الحکم کو ۱۵ جنوری ۱۹۰۳ء کی تاریخ لکھنے میں سہو ہوا ہے یا کا تب کی غلطی سے یہ تاریخ لکھی گئی ہے۔ دراصل حضور علیہ السلام کی یہ تقریر جو حضور نے سیر کے دوران فرمائی کسی اور گذشتہ تاریخ کی ہے۔ ۱۵ جنوری ۱۹۰۳ء کی نہیں ۔ الحکم“ اور ” البدر دونو سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ۸ رجنوری سے ۲۷ جنوری ۱۹۰۳ء تک