ملفوظات (جلد 4) — Page 70
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۰ جلد چهارم ہوتی۔ اس لئے اب ارادہ ہے کہ اسے خدا کے نام پر احمد یہ مشن کی خدمت میں وقف کردوں ۔ شاید اللہ تعالیٰ اس میں آبادی کر دیوے اور وہ دین کی راہ میں کام آوے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ کی نیت کا ثواب تو خدا تعالیٰ آپ کو دے گا لیکن آپ خود وہاں جا کر آبادی کریں اور اخراجات کاشت وغیرہ نکال کر پھر جو کچھ اس میں سے بچا کرے وہ اللہ کے نام پر اس سلسلہ میں دے دیا کریں۔ لے ۱۳ جنوری ۱۹۰۳ء بروز سہ شنبہ ( نماز فجر کے وقت ) ابوسعید عرب صاحب نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ چونکہ جناب نے جمعرات کو روانہ ہونا ہے اور آدمی زیادہ ہوں گے اس لئے ریلوے کمروں کو ریز رو کروا لینے سے آرام ہوگا۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہاں ۔ یہ امر مناسب ہے کہ تکلیف نہ ہو۔ عرب صاحب نے تجویز کی کہ سیکنڈ کلاس کی نسبت میرا یہ خیال ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی اور احباب ملنے آویں یا ہمراہ بیٹھیں تو وہ بیٹھ نہ سکیں گے اور بعض وقت کوئی انگریز صاحب بھی آجاویں تو ان کو روکا نہیں جاتا۔ اللہ اللہ خدا کے برگزیدوں کو دنیاوی کاروبار سے کس قدر بے خبری ہوتی ہے۔ فرمایا۔ ہم تو اس گاڑی میں بیٹھیں گے جس میں پاخانہ ہو۔ ہیں عرب صاحب نے کہا کہ حضور سیکنڈ کلاس میں بھی جائے ضرور ہوتا ہے اور چونکہ آپ بڑے آدمی اور ایک فرقہ کے لیڈر ہیں جناب کو ضرور فسٹ کلاس یا سیکنڈ کلاس میں بیٹھنا چاہیے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ جانے دو ہمیں تو اس پاخانہ والی گاڑی (انٹر میڈیٹ ) میں بیٹھنے کی عادت ہے۔ خاکسار ایڈیٹر نے مولوی جمال الدین صاحب سید والہ کی الہی جماعتوں میں ارتداد طرف سے عرض کی کہ ایک حافظ نے ان کو بلا کر بہت ناجائز البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۹