ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 44

ملفوظات حضرت مسیح موعود ہے کہ وہ اس امت میں سے ہوگا۔ جلد چهارم غرض اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان سلسلوں میں بالکل مطابقت ہے۔ اور محمدی مسلسلہ میں آنے والا خاتم الخلفاء مسیح کے رنگ پر ہوگا ۔ حدیثوں میں بھی یہی آیا ہے کہ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ یعنی وہ امام تم ہی میں سے ہوگا۔ سوال ہوا کہ مسیح کس قوم سے ہوگا ؟ مسیح موعود کس قوم سے ہوگا؟ فرمایا۔ مہدی کی بابت تو مختلف روایات ہیں ۔ مگر مسح کی بابت نہیں لکھا کہ وہ کسی قوم سے ہوگا اور یہ لطف کی بات ہے کہ چونکہ کسی قوم کا ذکر نہیں ہے اور مسلمانوں کا خیال تھا کہ وہ اوپر سے آنے والا ہے ۔ اس لئے اس دعوی میں آج تک کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ افترا سے کام لیتا۔ مہدی کا ذب ہونے کے دعوے جو بہت لوگوں نے کئے اس کی وجہ یہی تھی کہ اس کی قوم کا ذکر تھا۔ جہاں جس کو گنجائش ملی ۔ اس نے پاؤں جما کر دعوی کر دیا۔ مسیح ناصری شارح توریت اور مسیح موعود شارح قرآن ہے پوچھا گیا کہ عیسائی لوگ تو ریت کو نہیں مانتے ۔ انجیل کو ہی مانتے ہیں ۔ فرمایا۔ انجیل میں ہرگز کوئی شریعت نہیں ہے بلکہ توریت کی شرح ہے اور عیسائی لوگ توریت کو الگ نہیں کرتے جیسے مسیح توریت کی شرح بیان کرتے تھے۔ اسی طرح ہم بھی قرآن شریف کی شرح بیان کرتے ہیں ۔ جیسا کہ وہ مسیح، موسی سے چودہ سو برس بعد آئے تھے۔ اسی طرح ہم بھی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودھویں صدی میں آئے ہیں ۔ ایک شخص نے سوال کیا۔ بعض مخالف کہتے ہیں ہم بھی تو اهْدِنَا الصِّرَاطَ ہم مغضوب اور ضال المستقيم (الفاتحة:(1) کہتے ہیں ہم کو یہودی اور مغضوب کیوں کہا جاتا ہے؟ دو فرمایا کہ یہودی بھی تو ہدایت اب تک طلب کر رہے ہیں اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ مانگ