ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 43

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۳ جلد چهارم کر کے فرمایا) یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف جو علوم لے کر آیا ہے وہ دنیا کی کسی اور کتاب میں پائے اور نہیں جاتے ہیں ۔ توریت میں کسی علوم کا ذکر نہیں اور انجیل میں نشان تک بھی نہیں پایا جاتا۔ قرآن کریم کی عظمت کے بڑے بڑے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ اس میں عظیم الشان علوم ہیں جو توریت وانجیل میں تلاش کرنے ہی عبث ہیں اور ایک چھوٹے اور بڑے درجہ کا آدمی اپنے اپنے فہم کے موافق ان سے حصہ لے سکتا ہے۔ توریت کو دیکھو کہ ہستی باری تعالیٰ اور قیامت کے متعلق ایک بھی فقرہ اس میں نہیں ہے ادھر قرآن شریف کو دیکھو کہ ہستی باری تعالیٰ اور قیامت کے کیسے دلائل بھرے ہوئے ہیں اور پھر عقلی اور نقلی دونو طرح کے ثبوت ہیں ۔ قرون اولیٰ میں صرف نقل ہی نقل تھی۔ پھر یہود، نصاری ، آریہ، برہمو، نیچری غرض سب فرقوں کا رڈ اس میں موجود ہے۔ غرض قرآن شریف ایک اکمل اور اتم کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ خلقت میں علوم حاصل کرنے کے دماغ موجود ہو گئے ہیں تو اس نے قرآن جیسی کتاب بھیج دی۔ غرض یہ سلسلہ موسوی سلسلہ سے کسی صورت موسوی سلسلہ اور محمدی سلسلہ میں مطابقت میں کم نہ رہا۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک تو مما ثلت اور مطابقت میں فرمایا کہ بدی کا حصہ بھی تم کو ویسے ہی ملے گا جیسے یہود کو ملا اور اس سلسلہ کی نسبت بار بار ذکر ہوا کہ آخیر تک اس کی عظمت قائم رکھے گا۔ سورۃ فاتحہ میں بھی اس کا ذکر ہے جب کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة : ) فرمایا۔ مغضوب سے مراد یہودی ہیں۔ اب قابل غور یہ امر ہے کہ یہودی کیسے مغضوب ہوئے ۔ انہوں نے پیغمبروں کو نہ مانا اور حضرت عیسی کا انکار کیا تو ضرور تھا کہ اس امت میں بھی کوئی زمانہ ایسا ہوتا اور ایک مسیح آتا جس سے یہ لوگ انکار کرتے اور وہ مماثلت پوری ہوتی اور نہ کوئی ہم کو بتائے کہ اگر اسلام پر ایسا زمانہ کوئی آنے والا ہی نہ تھا اور نہ کوئی مسیح آنا تھا پھر اس دعائے فاتحہ کی تعلیم کا کیا فائدہ تھا۔ قرآن شریف کی مختلف آیات کے جمع کرنے سے اور پھر ان پر یکجائی نظر کرنے سے صاف پتا لگتا ہے کہ آنے والا مسیح ضرور اس امت میں سے ہوگا اور حدیث بھی اس کی شرح کرتی ہے اور کہتی