ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 41

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱ جلد چهارم طرح ہے یعنی جب دو شیشے ایک دوسرے کے بالمقابل رکھے جاتے ہیں تو ایک شیشہ کا دوسرے میں انعکاس ہوتا ہے۔ اور اس تقابل سلسلہ سے یہ بھی بخوبی معلوم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ہو جاتا ہے کہ آخری سلسلہ کا آخری موعود کس شان کا ہوگا کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ آخر آنے والا عظیم الشان ہوتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ٹھہرے۔ اگر یہ قاعدہ اور سنت نہ ہوتی ۔ تو پھر معاذ اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی عزت اور عظمت باقی انبیاء سابقین پر نہ ہوتی لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت دنیا میں عظیم الشان اصلاح چاہتی تھی اس لئے مناسب یہی تھا کہ ان سب سے بڑھ کر آپ کی عظمت دکھاوے تا کہ آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہو۔ دنیاوی حکام بھی جب ایسی مصلحت رکھ اور لیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا اس مصلحت کو مد نظر نہ رکھتا۔ کبھی حکام دنیا پسند نہیں کرتے کہ آخر میں کسی نالائق کو بھیج دیں اور کہہ دیں کہ گو یہ نالائق ہے مگر اس کی بات مان لو۔ اب ایک شخص جو کل دنیا کی اصلاح کے لئے آنے والا تھا کب ہو سکتا تھا کہ وہ ایک معمولی انسان ہوتا! جس قدر نبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے وہ سب ایک ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے۔ اس لئے کہ ان کی شریعت مختص القوم اور مختص الزمان تھی۔ مگر ہمارے نبی وہ عظیم الشان نبی ہیں جن کے لئے حکم ہوا کہ مَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ ( الانبياء : ۱۰۸) قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹ ) ۔ اس لئے جس قدر عظمتیں آپ کی بیان ہوئی ہیں ۔ مصلحت الہیہ کا بھی یہی تقاضا تھا کیونکہ جس پرختم نبوت ہونا تھا اگر وہ اپنے کمالات میں کوئی کمی رکھتا تو پھر وہی کمی آئندہ امت میں رہتی۔ کیونکہ جس قدر کمالات اللہ تعالیٰ کسی نبی میں پیدا کرتا ہے اسی قدر اس کی امت میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور جس قدر کمز ور تعلیم وہ لاتا ہے اتنا ہی ضعف اس کی امت میں نمودار ہو جاتا ہے چنانچہ یہی وجہ تھی کہ جس عظمت اور شان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا ۔ اسی عظمت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ