ملفوظات (جلد 4) — Page 40
ملفوظات حضرت مسیح موعود ( در بار شام ) لد۔ جلد چهارم عربی تصانیف کے متعلق اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ عربی تصانیف کی اہمیت اگر یہ سلسل نہ ہوتا تو یہ ب مولوی ہماری جماعت کو نظر استخفاف سے دیکھتے اور کہتے کہ یہ لوگ جاہل ہیں۔ مگر اب خود ہی بولنے کے لائق نہیں رہے۔ اسی سلسلہ کلام میں ابو سعید عرب صاحب نے عرض کیا کہ اگرچہ میں نے حضور کی تصنیفات کو مطالعہ نہیں کیا مگر میرا ایمان ہے کہ حضور بالکل سچے ہیں اور مسیح اور مہدی کا دعوی حق ہے۔ مگر دوسرے لوگوں سے کلام کرنے کے لئے میں چاہتا ہوں کہ حضور کی زبان مبارک سے مسیح موعود ہونے کا ثبوت سنوں۔ حضرت اقدس نے اس کے جواب میں جو کچھ فرمایا۔ ہم اس کو اختصار کے طور پر لکھیں گے کیونکہ اس مضمون کے متعلق بسط کے ساتھ کلمات طیبات میں بھی ایک مضمون چھپ رہا ہے۔ بہر حال آپ نے فرمایا۔ قرآن پر تدبر سے نظر کرنے والے کو معلوم ہوگا کہ دو سلسلوں مسیح موعود ہونے کا ثبوت کا مساوی ذکر ہے۔ اول دو سلسلہ جوئی سے شروع ہو کر موسیٰ شخص مسیح علیہ السلام پر ختم ہوتا ہے۔ اور دوسرا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوتا ہے یہ اس مو پرختم ہونا چاہیے جو مثیل مسیح ہو۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمُ ۔۔۔۔ الآية (المزمل: (۱۶) اور پھر سورۃ نور میں وعدہ استخلاف فرمایا کہ جس طرح پر موسوی سلسلہ ہو گزرا ہے اسی طرح پر محمدی سلسلہ بھی ہوگا تا کہ دونو سلسلوں میں بموجب آیات قرآنی باہم مطابقت اور موافقت تامہ ہو۔ چنانچہ جب کہ موسوی سلسلہ آخر عیسی علیہ السلام پر ختم ہوا ضروری تھا کہ محمدی سلسلہ کا خاتم بھی عیسی موعود ہوتا ۔ ان دونو سلسلوں کا باہم تقابل مرا یا متقابلہ کی لے چونکہ اس دن کی شام کی ڈائری البدر کی نسبت الحکم میں زیادہ مفصل اور مربوط ہے۔ اس لئے شام کی ڈائری الحکم سے یہاں درج کی گئی ہے ۔ (مرتب)