ملفوظات (جلد 4) — Page 361
ملفوظات حضرت مسیح موعود از صفحه نمبر ۲۷۳ ۲۷۳ ۲۸۱ ۲۸۴ ۲۹۰ له ولد ۳۰۵ ۳۱۹ ۳۲۵ ۳۳۴ ۳۳۶ ۳۵۸ ۳۶۱ ترجمه فارسی جلد چهارم تو اپنا دیوانہ بنانے کے بعد دونوں جہان بخش دیتا ہے تیرا دیوانہ دونوں جہانوں کو کیا کرے۔ میں آفتاب کا ٹکڑہ ہوں آفتاب کی ہی باتیں کرتا ہوں میں نہ رات ہوں نہ رات کا پجاری کہ خواب کی باتیں کروں۔ شروع میں عشق بہت منہ زور اور خونخوار ہوتا ہے تا وہ شخص جو صرف تماشائی ہے بھاگ جائے ۔ کہتے ہیں کہ نیکی کر دریا میں ڈال۔ ہر آزمائش جو خدا نے اس قوم کے لئے مقدر کی ہے، اس کے نیچے رحمتوں کا خزانہ چھپا رکھا ہے۔ رکھ چھوڑنے کے لئے پتھر کیا اور سونا کیا۔ اگر تو لوگوں کے مرتبہ کا دھیان نہیں رکھتا تو تو بے دین ہے۔ اگر چہ محبوب تک رسائی پانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو پھر بھی عشق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تلاش میں جان لڑا دی جائے ۔ تنور ( پر سونے) والی رات بھی گزر گئی اور سمور ( پہن کر سونے ) والی رات بھی گزر گئی۔ چند نیک نام اشخاص کو بد نام کرنے والا ۔ کھانا زندہ رہنے اور عبادت کرنے کی خاطر ہے تو سمجھتا ہے کہ زندگی محض کھانے پینے کے لئے ہے۔ جب خدا تیرا ہے تو تجھے کیا غم ہو سکتا ہے۔