ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 350

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۰ جلد چهارم کہ بعض پہلو اخفا کے ہوں کیونکہ نشانات کے ظاہر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ایمان بڑھے اور اس میں ایک عرفانی رنگ پیدا ہو جس میں ذوق ملا ہوا ہو لیکن جب ایسی کھلی باتیں ہوں گی تو اس میں ایمانی رنگ ہی نہیں آسکتا چہ جائیکہ عرفانی اور ذوقی رنگ ہو۔ پس اقتراحی نشانات سے اس لیے منع کیا جاتا ہے اور روکا جاتا ہے کہ اس میں پہلی رگ سوء ادبی کی پیدا ہو جاتی ہے جو ایمان کی جڑ کاٹ ڈالتی ہے۔ لو اس سوال کا جواب حضرت حجۃ اللہ علیہ السلام نے نشانات کس سے صادر ہوتے ہیں ایک بار انا ایک مخصری تقریر میں دیا ہے۔ فرمایا۔ نشانات کس سے صادر ہوتے ہیں؟ جس کے اعمال بجائے خود خوارق کے درجہ تک پہنچ جائیں مثلاً ایک شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا داری کرتا ہے وہ ایسی وفاداری کرے کہ اس کی وفا خارق عادت ہو جاوے۔ اس کی محبت ، اس کی عبادت خارقِ عادت ہو۔ ہر شخص ایثار کر سکتا ہے اور کرتا بھی ہے لیکن اس کا ایثار خارقِ عادت ہو غرض اس کے اخلاق ، عبادات اور سب تعلقات جو خدا تعالیٰ کے ساتھ رکھتا ہے اپنے اندر ایک خارقِ عادت نمونہ پیدا کریں تو چونکہ خارق عادت کا جواب خارقِ عادت ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر نشانات ظاہر کرنے لگتا ہے۔ پس جو چاہتا ہے کہ اس سے نشانات کا صدور ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے اعمال کو اس درجہ تک پہنچائے کہ ان میں خارقِ عادت نتائج کے جذب کی قوت پیدا ہونے لگے۔ انبیاء علیہم السلام میں یہی ایک نرالی بات ہوتی ہے کہ ان کا تعلق اندرونی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا شدید ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کا ہرگز نہیں ہوتا۔ ان کی عبودیت ایسا رشتہ دکھاتی ہے کہ کسی اور کی عبودیت نہیں دکھا سکتی ۔ پس اس کے مقابلہ میں ربوبیت اپنی تجلی اور اظہار بھی اسی حیثیت اور رنگ کا کرتی ہے۔ عبودیت کی مثال عورت کی سی ہوتی ہے کہ جیسے وہ حیا و شرم کے ساتھ رہتی ہے اور جب مرد بیا ہنے جاتا ہے تو وہ اعلانیہ جاتا ہے اسی طرح پر عبودیت پردہ اخفا میں ہوتی ہے لیکن اُلوہیت جب اپنی تحلی کرتی ہے تو پھر وہ ایک بین امر ہو جاتا ہے الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۳