ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 349

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۹ جلد چهارم ان کو معجزات کی حقیقت ہی معلوم نہیں ہوتی اس لیے وہ ایسے اعتراض کرتے ہیں اور نہ ذات باری کی عربت اور جبروت کا ادب ان کے دل پر ہوتا ہے۔ ہمارا خدا تعالیٰ پر کیا حق ہے کہ ہم جو کہیں وہ وہی کر دے۔ یہ سوء ادب ہے۔ اور ایسا خدا خدا ہی نہیں ہو سکتا۔ ہاں یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو امید اور حوصلہ دلایا کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱) یہ نہیں کہا کہ تم جو مانگو گے وہی دیا جاوے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بعض اقتراحی نشانات مانگے گئے تو آپ نے یہی خدا کی تعلیم سے جواب دیا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا (بنی اسراءیل: ۹۴) ۔ خدا کے رسول کبھی اپنی بشریت کی حد سے نہیں بڑھتے اور وہ آداب الہی کو مد نظر رکھتے ہیں یہ باتیں منحصر ہیں معرفت پر جس قدر معرفت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اسی قدر خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت دل پر مستولی ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر معرفت انبیاء علیہم السلام ہی کی ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی ہر بات اور ہر ادا میں بشریت کا رنگ جدا نظر آتا ہے اور تائیدات الہیہ الگ نظر آتی ہیں ۔ ہمارا ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ نشان دکھاتا ہے جب چاہتا ہے۔ وہ دنیا کو قیامت بنانا نہیں چاہتا۔ اگر وہ ایسا کھلا ہوا ہو کہ جیسے سورج تو پھر ایمان کیا رہا ؟ اور اس کا ثواب کیا ؟ ایسی صورت میں کون بد بخت ہوگا جو انکار کرے گا ؟ نشان بین ہوتے ہیں مگر ان کو باریک ہیں دیکھ سکتے ہیں اور کوئی نہیں اور یہ دقت نظر اور معرفت سعادت کی وجہ سے عطا ہوتی ہے اور تقویٰ سے ملتی ہے شقی اور فاسق اس کو نہیں دیکھ سکتا۔ ایمان اس وقت تک ایمان ہے جب تک اس میں کوئی پہلو اخفا کا بھی ہو لیکن جب بالکل پردہ برانداز ہو تو وہ ایمان نہیں رہتا اگر مٹھی بند ہو اور کوئی بتادے کہ اس میں یہ ہے تو اس کی فراست قابل تعریف ہو سکتی ہے لیکن جب مٹھی کھول کر دکھا دی اور پھر کسی نے کہا کہ میں بتا دیتا ہوں تو کیا ہوا ؟ یا پہلی رات کا چاند اگر کوئی دیکھ کر بتائے تو البتہ اسے تیز نظر کہیں گے۔ لیکن جب چودھویں کا چاند ہو گیا اس وقت کوئی کہے کہ میں نے چاند دیکھ لیا وہ چڑھا ہوا ہے تو لوگ اس کو پاگل کہیں گے۔ غرض معجزات وہی ہوتے ہیں جس کی نظیر لانے پر دوسرے عاجز ہوں ۔ انسان کا یہ کام معجزہ نہیں کہ وہ ان کی حد بند کرے کہ ایسا ہونا چاہیے یا ویسا ہونا چاہیے۔ اس میں ضرور ہے ا