ملفوظات (جلد 4) — Page 340
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۰ جلد چهارم ہیں اور اور طرف ہاتھ پاؤں مارتے پھرتے ہیں مگر جب تک وہ اس کے اصل علاج کی طرف رجوع نہ کریں گے تب تک نجات کہاں؟ کوئی طبیبوں یا ڈاکٹروں کی طرف بھاگتا ہے اور کوئی ٹیکہ کے واسطے بازو پھیلاتا ہے کوئی نئے تجربہ سے اور نئی ایجاد کے درپے ہے۔ ہماری شریعت نے اگرچہ اسباب سے منع تو نہیں کیا بلکہ فِيهِ شِفَاء لِلنَّاسِ سے معلوم ہوتا ہے کہ دواؤں میں خدا تعالیٰ نے خواص شفاء مرض بھی رکھے ہوئے ہیں اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ دواؤں میں تاثیرات ہوتی ہیں اور امراض کے معالجات ہوا کرتے ہیں ۔ مگر ان اسباب پر بھروسا کر لینا اور یہ گمان کرنا کہ انہی کے ذریعہ سے نجات اور کامیابی ہو جاوے گی یہ سخت ہو جاوے گی یہ سخت شرک اور کفر ہے۔ بھروسا اسباب پر ہرگز نہ چاہیے بلکہ یوں چاہیے کہ اسباب کو مہیا کر کے پھر بھروسا خدا پر کرنا چاہیے کہ اگر وہ چاہے تو ان اسباب کو مفید بناوے اور اسی سے پھر بھی دعا کرنی چاہیے کیونکہ اسباب پر نتائج مرتب کرنا تو اُسی کا پر کام ہے اور یہی تو کل ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور نماز کے متعلق ہمیں کیا حکم ہے۔ نماز کی اہمیت اور حقیقت فرمایا۔ نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف فرمادی جاوے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں ۔ مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپؐ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو! کہ جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا ؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔ نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجز ، نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔ کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں گر جانا ، اس سے اپنی حاجات کا مانگنا ، یہی نماز ہے۔ ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے، تو ایسا ہے اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلانا اور پھر اس سے مانگنا ، پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔ انسان ہر وقت محتاج ہے کہ اس سے اس کی