ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 327

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۷ جلد چهارم اور ہنسی سے ان کا ذکر کرتے ہوں گے مگر یاد رکھو کہ یہ اب آخری دن ہیں ۔ خدا تعالیٰ فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ لوگ بے حیائی، حیلہ بازی اور نفس پرستی میں حد سے زیادہ گذرے جاتے ہیں ۔ خدا کے عظمت و جلال اور توحید کا ان کے دلوں میں ذرا بھی خیال نہیں گویا ناستک مت ہو گئے ہیں ۔ کوئی کام بھی ان کا خدا کے لیے نہیں ہے ۔ پس ایسے وقت میں اس نے اپنے ایک خاص بندہ کو بھیجا ہے تا اس کے ایک مامور کی بعثت ذریعہ سے دنیا میں ہدایت کا نور پھیلا دے اور گمشدہ ایمان اور توحید کو از سر نو دنیا میں قائم کرے ۔ مگر جب دنیا نے اس کی پروا نہ کی اور الٹا دکھ دیا اور اس کی تکذیب کے لئے کمر بستہ ہو گئے تو خدا نے ان کو قہر کی آگ سے ہلاک کرنا شروع کیا۔ کئی طرح کے عذابوں سے اس نے دنیا کو جگایا ہے کہیں قحط ہوئے اور کہیں زلزلے آئے ۔ آتش فشانیاں ہوئیں۔ ہزار در ہزار لوگ تباہ ہوئے ۔ انہیں میں سے ایک طاعون بھی ہے۔ یہ دور نہ ہوگی اور نہ جاوے گی جب تک یہ دنیا کو سیدھا نہ کرلے ۔ لوگ تسلی پا جاتے ہیں کہ بس اب گئی اب نہیں آوے گی مگر وہ دھوکا کھاتے ہیں۔ ان نادانوں کا تو کام ہی خدا سے جنگ کرنا ہو گیا ہے مگر وہ کہاں تک؟ وہ دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ میں ضرور موجود ہوں اور ان کی بیبا کیوں اور شرارتوں کو دور کرنا چاہتا ہوں مگر آہستہ آہستہ۔ اس کے تمام کام بتدریج ہوا کرتے ہیں۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ دنیا طرح طرح کے ظلم اور فسادوں سے بھر گئی اور خدا کا نام دنیا سے اٹھ گیا۔ اس کی توحید اور اس کی کتاب اور اس کے رسول کی ہتک کی گئی تو وہ ایسے وقت میں اپنے خاص رحم سے اپنی رحمت کا دروازہ ارحمت کا دروازہ کھولتا ہے اور اپنی خلقت کو ایک ایسے شخص کے سپر د کرتا ہے جو اس کو خدا کے عذاب سے بچانے کے واسطے کوشش کرتا اور ان کا بڑا خیر خواہ ہے مگر جب دنیا اس کی پروا نہیں کرتی اور بجائے اس کے کہ اس سے محبت کریں اس کو ستایا جاتا اور دکھ دیا جاتا ہے تو خدا بھی اپنے غضب سے دنیا میں اپنا عذاب نازل کرتا ہے جو نافرمانوں کو آگ کی طرح بھسم کرتا ہے اور خدا کی سلطنت کا رعب قائم کرتا اور صادق کی نصرت اور اس کے ہمراہیوں کو بطور نمونہ اس سے بچاتا ہے۔