ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 322

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۲ جلد چهارم أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف: ۴) مقت خدا کے غضب کو کہتے ہیں یعنی بڑا غضب ان پر ہوتا ہے جو اقرار کرتے ہیں اور پھر کرتے نہیں ایسے آدمی پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے اس لیے دعا ئیں کرتے رہو۔ کوئی ثابت قدم نہیں رہ سکتا جب تک خدا نہ رکھے ۔ اے ۲۱ مارچ ۱۹۰۳ء ( بوقت سیر ) او کسی خاص شخص کی ہدایت کے لئے دعا کسی خاص شخص کی ہدایت پر زور دینے کے بارے میں فرمایا کہ ایک فرد واحد پر ہدایت کے لیے زور دینا ٹھیک نہیں ہوتا اور نہ اس طرح کبھی انبیاء کو کامیابی ہوئی ہے۔ عام دعا چاہیے پھر جو لائق ہوتا ہے وہ اس سے خود بخود مؤثر ہوتا ہے۔ تو بہ کی حقیقت یہ ہے کہ گناہ سے گلی طور پر بیزار ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے حقیقت تو بہ اور سچے طور سے یہ عہد ہو کہ موت تک پھر گناہ نہ کروں گا۔ ایسی تو بہ پر خدا کا وعدہ ہے کہ میں بخش دوں گا ۔ اگر چہ یہ تو بہ دوسرے دن ہی ٹوٹ جاوے مگر بات یہ ہے کہ کرنے والے کا اس وقت عزم مصم ہو اور اس کے دل میں ٹوٹی ہوئی نہ ہو۔ ایک تو بہ انسان کی طرف سے ہوتی ہے اور ایک خدا کی طرف سے۔ خدا کی تو بہ کے معنے رجوع کے ہیں کیونکہ اس کا نام تو اب ہے۔ انسان تو بہ کرتا ہے تو گناہ سے نیکی کی طرف آتا ہے اور جب خدا تو بہ کرتا ہے تو وہ رحمت سے اس کی طرف آتا ہے اور اس انسان کو لغزش سے سنبھال لیتا ہے۔ جب اس قسم کی خدا کی تو بہ ہو تو پھر لغزش نہیں ہوتی ۔ حدیث میں ہے کہ انسان تو بہ کرتا ہے پھر اس سے ٹوٹ جاتی ہے اور قضا و قدر غالب آتی ہے پھر وہ روتا ہے گڑ گڑاتا ہے پھر تو بہ کرتا ہے مگر پھر ٹوٹ جاتی ہے اور وہ بار بار تضرع کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے پھر آخر کار جب انتہا تک اس کی تضرع اور ابتہال پہنچ جاتے ہیں تو پھر خدا تو بہ کرتا ہے یعنی اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور کہتا ہے اعْمَلُ مَا شِئْتَ إِنِّي الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۸،۷