ملفوظات (جلد 4) — Page 321
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۱ جلد چهارم آجانے کے وقت تو کافر بھی ڈرتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ بعض گاؤں میں جہاں طاعون کی شدت ہوئی ہے ہندوؤں نے مسلمانوں کو بلا کر اپنے گھروں میں اذانیں دلوائی ہیں ۔ وہی اذان جس سے پہلے ان کو ان کو پر ہیز تھا۔ ہے جو مومن غرض کے لیے خدا سے نہیں ڈرتا خدا اس سے خوف کو دور کر دیتا ہے مگر جس کے دروازہ پر بلا نازل ہو جاوے تو وہ خواہ مخواہ اس سے ڈرے گا۔ بہت دعائیں کرتے رہوتا کہ ان بلاؤں سے نجات ہو اور خاتمہ بالخیر ہو۔ عملی نمونہ کے سوا بیہودہ قیل و قال فائدہ نہیں دیتی اور جیسے یہ ضروری ہے کہ ڈر کے سامانوں سے پہلے ڈرنا چاہیے یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ڈر کے سامان قریب ہوں تو ڈر جاؤ اور جب وہ دور چلے جاویں تو بے باک ہو جاؤ ۔ بلکہ تمہاری زندگی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے بھری ہوئی ہو خواہ مصیبت کے سامان ہوں یا نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ مقتدر ہے ہے وہ جب چاہتا ہے مصیبت کا دروازہ کھول دیتا ہے اور جب چاہتا ہے کشائش کرتا ہے جو اس پر بھی بھروسا کرتا ہے وہ بچایا جاتا ہے۔ ڈرنے والا اور نہ ڈرنے والا کبھی برابر نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں میں ایک فرق رکھ دیتا ہے۔ پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ سچی توبہ کریں اور گناہ سے بچیں ۔ جو بیعت کر کے پھر گناہ سے نہیں بچتا وہ گویا جھوٹا اقرار کرتا ہے۔ ہے اور یہ میرا ہاتھ نہیں خدا کا ہاتھ ہے جس پر وہ ایسا جھوٹ بولتا ہے اور پھر خدا کے ہاتھ پر جھوٹ بول کر کہاں جاوے؟ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ لے البدر میں اس کی مزید تشریح ہے۔ لکھا ہے۔ جیسے آج کل سنا گیا ہے کہ ہندو اور سکھ لوگ طاعون کے ڈر سے مسلمانوں کو بلا بلا کر اپنے گھروں میں بانگ دلواتے ہیں مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ غرض کے وقت یہ لوگ نرم ہو جاتے ہیں جب غرض نکل گئی پھر ویسے ہی سخت قلب نہ نہ ہو گئے ۔ مومن کی یہ حالت نہ چاہیے بلکہ اسے خدا سے صدق اور وفا سے دُعا کرنی چاہیے۔ اگر طاعون نہ بھی ہو تو بھی وہ خدا سے ایسا ہی ڈرے گا جیسے ہزار طاعون ہو۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۸۱) کے البدر سے ۔ ہر وقت اس سے ڈرنا چاہیے۔ کیا اسے قہر بھیجتے کچھ دیر لگتی ہے؟ البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۱، ۸۲) سے البدر سے بیعت کی بنیاد یہی ہے کہ سچی توبہ ہو اور گناہ چھوٹ جاویں اگر یہ نہ ہو تو بیعت خود گناہ ہوگی ۔“ 66 البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸۲)