ملفوظات (جلد 4) — Page 287
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۷ جلد چهارم سے استعانت اور دعا کرنے کی کیا حاجت؟ دعا کی حاجت تو اسی کو ہوتی ہے جس کے سارے راہ بند ہوں اور کوئی راہ سوائے اس ڈر کے نہ ہو اسی کے دل سے دعا نکلتی ہے۔ غرض رَبَّنَا آتِنَا فِي الدنيا ۔۔۔۔ الخ ایسی دعا کرنا صرف انہیں لوگوں کا کام ہے جو خدا ہی کو اپنا رب جان چکے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان کے رب کے سامنے اور سارے ارباب باطلہ بیچ ہیں ۔ آگ سے مراد صرف وہی آگ نہیں جو قیامت کو ہو گی بلکہ دنیا میں بھی جو شخص ایک لمبی عمر پاتا ہے وہ دیکھ لیتا ہے کہ دنیا میں بھی ہزاروں طرح کی آگ ہیں۔ تجربہ کار جانتے ہیں کہ قسم قسم کی آگ دنیا میں موجود ہے طرح طرح کے عذاب خوف، خون، فقر و فاقے ، امراض، ناکامیاں، ذلت و ادبار کے اندیشے، ہزاروں قسم کے دکھ، اولاد، بیوی وغیرہ کے متعلق تکالیف اور رشتہ داروں کے ساتھ معاملات میں الجھن ۔ غرض یہ سب آگ ہیں ۔ تو مومن دعا کرتا ہے کہ ساری قسم کی آگوں سے ہمیں بچا۔ جب ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ان سب عوارض سے جو انسانی زندگی کو تلخ کرنے والے ہیں اور انسان کے لیے بمنزلہ آگ ہیں بچائے رکھ۔ سچی تو بہ ایک مشکل امر ہے۔ بجز خدا کی توفیق اور مدد کے تو بہ کرنا اور اس پر قائم ہو جانا محال ہے۔ تو بہ صرف لفظوں اور باتوں کا نام نہیں۔ دیکھو! خدا قلیل سی چیز سے خوش نہیں ہو جاتا۔ کوئی ذرا سا کام کر کے خیال کر لینا کہ بس اب ہم نے جو کرنا تھا کر لیا اور رضا کے مقام تک پہنچ گئے یہ صرف ایک خیال اور وہم ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب ایک بادشاہ کو ایک دانہ دے کر یا مٹی کی مٹھی دے کر خوش نہیں کر سکتے بلکہ اس کے غضب کے مورد بنتے ہیں تو کیا وہ احکم الحاکمین ! لمین اور بادشاہوں کا بادشاہ ہماری ذراسی ناکارہ حرکت سے یا دولفظوں سے خوش ہو سکتا ہے ' خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا وہ مغز چاہتا ہے۔ البدر میں ہے۔ ”میری جماعت کو یا درکھنا چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو دھوکا نہ دے۔ خدان خدا تعالیٰ ایک ناکارہ چیز کو پسند نہیں کرتا۔ دیکھو! اگر ایک شخص دُنیوی بادشاہ کے پاس کمی سی چیز ہدیہ کے طور پر لے جاتا ہے تو اگر چہ وہ اس کو لے جا سکتا ہے مگر وہ ایسے فعل سے بادشاہ کی ہتک کرتا ہے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخه ۲۰ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۶)