ملفوظات (جلد 4) — Page 286
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۶ جلد چهارم کی طرف آیا ہے اور یہ لفظ حقیقی درد اور گداز کے سوا انسان کے دل سے نکل ہی نہیں سکتا ۔ ربّ کہتے ہیں بتدریج کمال کو پہنچانے والے اور پرورش کرنے والے کو۔ اصل میں انسان نے اپنے بہت سے ارباب بنائے ہوئے ہوتے ہیں اپنے حیلوں اور دغا بازیوں پر اسے پورا بھروسا ہوتا ہے تو وہی اس کے رب ہیں ۔ اگر اسے اپنے علم کا یا قوت بازو کا گھمنڈ ہے تو وہی اس کے رب ہیں ۔ اگر اسے اپنے حسن یا مال و دولت پر فخر ہے تو وہی اس کا رب ہے غرض اس طرح کے ہزاروں اسباب اس کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ۔ جب تک ان سب کو ترک کر کے ان سے بیزار ہو کے اس واحد لاشریک سچے اور حقیقی رب کے آگے سر نیاز نہ جھکائے اور ربنا کی پر درد اور دل کو پگھلانے والی آوازوں سے اس کے آستانہ پر نہ گرے۔ تب تک وہ حقیقی رب کو نہیں سمجھا ۔ پس جب ایسی دلسوزی اور جاں گدازی سے اس کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے تو بہ کرتا اور اسے مخاطب کرتا ہے کہ دینا یعنی اصلی اور حقیقی رب تو تو ہی تھا مگر ہم اپنی غلطی سے دوسری جگہ بہکتے پھر تے رہے۔ اب میں نے ان جھوٹے بتوں اور باطل معبودوں کو ترک کر دیا ہے اور صدق دل سے تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں ۔ تیرے آستانہ پر آتا ہوں ۔ غرض بجز اس کے خدا کو اپنا رب بنانا مشکل ہے جب تک انسان کے دل سے دوسرے ربّ اور ان کی قدر و منزلت و عظمت و وقار نکل نہ جاوے تب تک حقیقی رب اور اس کی ربوبیت کا ٹھیکہ نہیں اٹھاتا۔ بعض لوگوں نے جھوٹ ہی کو اپنا رب بنایا ہوا ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ ہمارا جھوٹ کے بدوں گزارہ ہی مشکل ہے بعض چوری و راہزنی اور فریب دہی ہی کو اپنا رب بنائے ہوئے ہیں ۔ ان کا اعتقاد ہے کہ اس راہ کے سوا ان کے واسطے کوئی رزق کا راہ ہی نہیں ۔سو ان کے ارباب وہ چیزیں ہیں ۔ دیکھو! ایک چور جس کے پاس سارے نقب زنی کے ہتھیار موجود ہیں اور رات کا موقع بھی اس کے مفید مطلب ہے اور کوئی چوکیدار وغیرہ بھی نہیں جاگتا ہے تو ایسی حالت میں وہ چوری کے سوا کسی اور راہ کو بھی جانتا ہے جس سے اس کا رزق آسکتا ہے؟ وہ اپنے ہتھیاروں کو ہی اپنا معبود جانتا ہے۔ غرض ایسے لوگ جن کو اپنی ہی حیلہ بازیوں پر اعتماد اور بھروسا ہوتا ہے ان کو خدا