ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 21

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱ جلد چهارم والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر وہ پہلے ہی دن سارے نشان ظاہر کر دے تو پھر ایمان کا کوئی ثواب اور نتیجہ ہی نہ ہو۔ عرفان آکر یقین سے تو بھر دیتا ہے مگر اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ ان ساری ترقیوں کی جڑا ایمان ہی ہے۔ اسی کے ذریعہ سے انسان بڑی بڑی منزلیں طے کرتا اور سیر کرتا ہے۔ سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ (بنی اسراءیل (۲) سے یہی پایا جاتا ہے کہ جب کامل معرفت ہوتی ہے تو پھر اس کو عجیب و غریب مقامات کی سیر کرائی جاتی ہے اور یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو ادب سے اپنی خواہشوں کو مخفی رکھتے ہیں۔ تمام منہاج نبوت اسی پر دلالت کرتا ہے۔ پہلے نشان بھی ظاہر نہیں ہوتے بلکہ ابتلا ہوتے ہیں ۔ پس صدیقی فطرت حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کون سا صدیقی فطرت حاصل کریں نشان مانگا تھا۔ شام سے مکہ کو آرہے تھے۔ راستہ ہی میں خبر ملی ۔ وہیں یقین لے آئے ۔ اس کی وجہ وہ معرفت تھی جو آپ کی تھی ۔ معرفت بڑی عمدہ چیز ہے۔ جب انسان کسی کے حالات اور چال چلن سے پورا واقف ہو تو اس کو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کو معجزہ اور نشان کی کوئی حاجت ہی نہیں ہوتی ۔ حضرت ابوبکر صدیق آپ کے حالات سے پورے واقف تھے۔ اس لئے سنتے ہی یقین کر لیا۔ فرمایا۔ ہمیں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے مامور کیا ہے۔ وہ یہی ہے کہ تقوی اختیار کریں تقوی کا میان خالی پڑا ہے تقوی ہونا چاہے نہ یہ کہ تلوار تھا، یہ حرم اٹھاؤ، ہے۔ اگر تم تقویٰ کرنے والے ہو گے تو ساری دنیا تمہارے ساتھ ہوگی ۔ پس تقویٰ پیدا کرو۔ جو لوگ شراب پیتے ہیں یا جن کے مذہب کے شعائر میں شراب جزو اعظم ہے ان کو تقوی سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ وہ لوگ نیکی سے جنگ کر رہے ہیں ۔ پس اگر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو ایسی خوش قسمت اور انہیں توفیق دے کہ وہ بدیوں سے ۔ جنگ کرنے والے ہوں اور تو اور تقویٰ اور طہارت کے دے اور ا ے مراد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ