ملفوظات (جلد 4) — Page 20
ملفوظات حضرت مسیح موعود تباہ ہو جاتے ہیں ۔ ۲۰ پیشگوئیوں کے متعلق فرمایا کہ جلد چهارم پیشگوئیوں کے اسرار اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے اور اس کا کلام بہر حال سچا ہے۔ ہاں یہ ہوتا ہے کہ کبھی وہ جسمانی رنگ میں پوری ہوتی ہیں کبھی روحانی رنگ میں ۔ اور منہاج نبوت میں اس کے نظائر موجود ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ گائیں ذبح ہوتی ہیں تو وہ صحابہ کا ذبح ہونا تھا۔ اور آپ نے دیکھا کہ سونے کے کڑے پہنے ہوئے ہیں جو پھونک مارنے سے اُڑ گئے ۔ اس سے مراد جھوٹے پیغمبر تھے۔ پس خدا کا کلام کسی نہ کسی رنگ میں ضرور سچا ہے۔ فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا جماعت کے ازدیاد ایمان کے لئے نشانات کا ظہور کہ ہماری جماعت کا ایمان کمزور رہے۔ مہمان اگر نہ بھی چاہے تو بھی میزبان کا فرض ہے کہ اس کے آگے کھانا رکھ دے۔ اسی طرح پر اگر چہ نشانوں کی ضرورت کوئی بھی نہ سمجھے تب بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کے ایمان کو بڑھانے کے لئے نشانات ظاہر کر رہا ہے۔ یہ بھی سچی بات ہے کہ جولوگ اپنے ایمان کو نشانوں کے ساتھ مشروط کرتے ہیں وہ سخت غلطی کرتے ہیں۔ حضرت مسیح کے شاگردوں نے مائدہ کا نشان مانگا تو یہی جواب ملا کہ اگر اس کے بعد کسی نے انکار کیا تو ایسا عذاب ملے گا جس کی نظیر نہ ہوگی ۔ پس طالب کا ادب یہی ہے کہ وہ زیادہ سوال نہ کرے اور نشان طلب کرنے طالب کا ادب پر زور نہ دے۔ جو اس آداب کے طریق کوملحوظ رکھتے ہیں خدا ان کو کبھی بے نشان نہیں چھوڑتا اور ان کو یقین سے بھر دیتا ہے۔ صحابہ کی حالت کو دیکھو کہ انہوں نے نشان نہیں مانگے مگر کیا خدا نے ان کو بے نشان چھوڑا؟ ہرگز نہیں ۔ تکالیف پر تکالیف اٹھائیں۔ جانیں دیں۔ اعداء نے عورتوں تک کو خطرناک تکلیفوں سے ہلاک کیا مگر نصرت ہنوز نمودار نہ ہوئی۔ آخر خدا کے وعدہ کی گھڑی آگئی اور ان کو کامیاب کر دیا اور دشمنوں کو ہلاک کیا۔ یہ سچی بات ہے کہ خدا صبر کرنے