ملفوظات (جلد 4) — Page 267
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۷ جلد چهارم کیسے چھوڑ دوں؟ ان کا عقیدہ ہے کہ جب مسیح آوے گا تو جس قدر غلطیاں ہوں گی ان کو نکال دے گا اگر اس نے سب کچھ انہی کا قبول کرنا ہے اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کہنا تو بتلاؤ کہ پھر اس کا کام کیا ہوگا ؟ آنحضرت کے وقت میں بھی یہی طریق ایسے لوگوں کا تھا کہ دور سے بیٹھے شور مچاتے اور پاس آ کر نہ دیکھتے ۔ ابو جہل نے مخالفت تو سالہا سال کی مگر پیغمبر خدا کی صحبت میں ایک دن بھی نہ بیٹھا حتی کہ مر گیا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے وَلا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (بنی اسرآءيل: ۳۷) اب ان سے پوچھا جاوے کہ بلا تحقیق کے کیوں فتوے لگاتے ہو؟ یہ خود کہتے تھے کہ صدی کے سر پر آنے والا ہے۔ علامات ظہور مہدی ومسیح کا پورا ہونا پھر انہی کی کتابوں میں لکھا ہوا تھا کہ کسوف خسوف ہوگا ، طاعون پڑے گی ، حج بند ہوگا ، ایک ستارہ جو مسیح کے وقت نکلا تھا نکل چکا ہے، اونٹوں کی سواری بے کار ہو گئی ہے۔ اسی طرح سب علامتیں پوری ہو گئی ہیں مگر ان لوگوں کا یہ کہنا کہ ابھی مسیح نہیں آیا یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آنحضرت کی کوئی پیشگوئی پوری نہ ہو۔ یہ سب اندرونی نشان ہیں ۔ اب بیرونی دیکھئے کہ صلیب کا غلبہ کس قدر ہے۔ نصاری نے تردید اسلام میں کیا کیا کوشش کی ہیں اور خود اندرونی طور پر تقویٰ، زہد، ریاضت میں فرق آگیا ہے۔ برائے نام مسلمان ہیں ۔ جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں۔ خیانتیں کرتے ہیں ۔ قرضہ لے کر دبا لیتے ہیں۔ اگر خدا کو یہ منظور ہوتا کہ اسلام ہلاک ہو جاوے اور اندرونی اور بیرونی بلائیں اسے کھا جاویں تو وہ کسی کو پیدا نہ کرتا ۔ اس کا وعدہ نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ ( الحجر : ۱۰) کا کہاں گیا ؟ اول تو تاڑ تار مجدد آئے مگر جب مسلمانوں کی حالت تنزل میں ہوئی بداطواری ترقی کرتی جاتی ہے سعادت کا مادہ ان میں نہ رہا اور اسلام غرق ہونے لگا تو خدا نے ہاتھ اُٹھا لیا ؟ جب کہو تو یہی جواب ہے کہ حدیثوں میں لکھا ہے ۳۰ دجال آئیں گے ۔ یہ بھی ایک دجال ہے۔ او کمبختو ! تمہاری قسمت میں دجال ہی لکھے ہیں؟ غرض یہ باتیں غور کے قابل ہیں مگر دل کے کھولنے کی کنجی خدا کے ہاتھ میں