ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 259

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۹ جلد چهارم ایمانی قوت ہی ایسی مضبوط ہوتی ہے کہ اسے کسی نشان کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس کا ایمان کامل ہوتا ہے دیکھو! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کون سانشان دیکھا تھا ؟ یا ان کو کون سا خواب آیا ؟ یا کوئی بشارت ہوئی تھی جس سے انہوں نے آپ کو پہچان لیا تھا اگر ان کا کوئی خواب یا بشارت و خواب یا بشارت وغیرہ ہوتی تو اس کا ذکر حدیث شریف میں ضرور ہوتا۔ وہ ایک سفر پر گئے ہوئے تھے راستہ میں واپسی پر انہوں نے ایک شخص سے پوچھا کہ اپنے شہر کی کوئی نئی بات سنا اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت سے اسے آگاہ کیا۔ فوراً بے چون و چرامان لیا۔ اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے حالات دیکھے ہوئے تھے ۔ وہ بخوبی آگاہ تھے کہ یہ شخص کا ذب یا مفتری نہیں ۔ ان کو پہلی واقفیت اور عقل سلیم نے آپ کو فوراً قبول کر لینے پر مجبور کیا۔ زمانہ کی حالت کو انہوں نے دیکھ لیا تھا۔ وقت تھا ضرورت تھی ایک صادق نے خدا کی طرف سے الہام پا کر دعویٰ کیا فورا مان لیا۔ اصل میں نشانات کی ضرورت بھی کمزور ایمان کو ہوتی ہے۔ کامل ایمان کو نشان کی ضرورت ہی نہیں ۔ فرمایا کہ خدا کے مقرب عذاب الہی سے محفوظ رکھے جاتے ہیں خدا کے عذاب سے اور اپنے محفوظ رکھنے کے واسطے خدا کا قرب حاصل کرنا ضروری ہے۔ جتنا جتنا خدا سے انسان قریب ہوتا ہے اتنا ہی وہ مصائب ، شدائد اور بلاؤں سے دور ہوتا ہے۔ جو خدا کا مقرب ہوتا ہے اسے کبھی خدا کے قہر کی آگ نہیں کھاتی ۔ دیکھو ! انبیاء کے وقت میں وبائیں اور طاعون سخت ہوتے رہے مگر کوئی بھی رض نبی ان عذابوں میں ہلاک نہیں ہوا۔ صحابہ کے وقت میں بھی طاعون پڑا۔ اور بہت سے رض سے صحابہ اس سے شہید بھی ہوئے مگر اس وقت وہ صحابہؓ کے واسطے شہادت تھی کیونکہ صحابہ اپنا کام پورا کر چکے تھے اور اعلیٰ درجہ کی کامیابی ان کو ہو چکی تھی اور نیز وہ کوئی تحدی کا وقت بھی نہ تھا اور مرنا تو ہر انسان کے ساتھ لازمی لگا ہوا ہے ۔ اسی ذریعہ سے خدا تعالیٰ کو ان کی موت منظور تھی ۔ ان کے واسطے شہادت تھی ۔ مگر جب کسی عذاب کے واسطے پہلے سے خبر دی جاوے کہ خدا آسمان سے اپنی ناراضگی کی وجہ سے قہر نازل کرے گا تو ایسے وقت میں وہ و با رحمت نہیں اور شہادت نہیں ہوا کرتی بلکہ لعنت ہوا کرتی ہے پس