ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 250

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۰ جلد چهارم پھر جب یہ خدا کے واسطے اپنے او پر موت وارد کرتا ہے خدا کبھی اسے دوسری موت نہیں دیتا۔ آج کل دیکھا جاتا ہے کہ جب میں نیک دل انسان کو دور سے پہچان لیتا ہوں کھولا جاتا ہے۔ تو ان کی باتوں میں سے سوائے ہنسی ٹھٹھے اور دل دکھانے والے کلمات کے کچھ نکلتا ہی نہیں جو کچھ کسی برتن میں ہوتا ہے وہی باہر نکلتا ہے۔ ان کی زبانیں ان کے اندرون پر گواہی دیتی ہیں۔ میں تو نیک دل انسان کو دوری سے پہچان لیتا ہوں جو شخص پاک کردار سلیم دل لے کر آتا ہے میں تو اسی کے دیکھنے کا شوق رکھتا ہوں ۔ اس کی تو گالی بھی بڑی معلوم نہیں ہوتی ۔ مگر افسوس کہ ایسے پاک دل بہت کم ہیں ۔ ایک آریہ صاحب بولے کہ اصل میں حضور جاہل تو دو ہی قومیں ہیں ۔ صبر اور علم کا نمونہ آپ برا نہ مانیں تو میں عرض کر دوں ۔ اول تو سکھ لوگ دوسرے یہ ہمارے مسلمان بھائی۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ دیکھئے ایک سمجھنے والے کے لیے جاہل سے زیادہ اور کیا گالی ہو سکتی ہے۔ کسی شخص کو اس کے منہ پر جاہل کہنا بہت سخت گالی ہے مگر سو چو تو کیا ان حاضرین میں سے کوئی ایک بھی بولا ہے؟ کیا اب بھی تمہیں اس مجلس کی نرمی اور تہذیب پر کچھ شک ہے؟ بہت ہیں ہمارے منہ پر گالیاں دے جاتے مگر ان میں سے ایک کی بھی مجال نہیں ہوتی کہ دم مار کر اس کو کچھ بھی کہہ جاوے۔ ہم ان کو دن رات صبر کی تعلیم دیتے ہیں۔ نرمی اور علم سکھاتے ہیں ۔ یہ وہ قوم نہیں کہ آپ کے اس اصول کے مصداق بن سکے۔ ہاں ہم البتہ عوام مسلمان لوگوں کے ذمہ وار نہیں ہیں ہم تب مانیں اگر کسی آریہ لوگوں کے مجمع میں اس طرح کہہ دیں تم جاہل ہو اور وہ صبر کر رہیں اور ایک کی بجائے ہزار نہ سنائیں تو ۔ آپ نے مسلمانوں کو نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ نے ان کے اخلاق مسلمان کے اخلاق دیکھے ہیں۔ ان کا اور ان آریوں کا اگر مقابلہ کیا جاوے تو بکری اور