ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 249

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۹ جلد چهارم آہستگی اور نرمی سے دور کرنے کی کوشش کرو کسی کو پتھر کی طرح اعتراض کا تحفہ نہ دو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایک کپڑا بازار سے لے کر سلایا جاتا اور پہنا جاتا ہے چند روز کے بعد وہ پرانا ہو جاتا اور اس میں تغیر آکر کچھ اور کا اور ہی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پرانے مذہب میں بھی صداقت کی جڑ ضرور ہے۔ خدا راستی سچے مذہب کی علامات کے ساتھ ہوتا ہے اور سچا مذہب اپنے اندر زندہ نشان رکھتا ہے کیونکہ درخت اپنے پھلوں سے شناخت ہوتا ہے ۔ درنمنٹ جو اس وراء الوراء ہستی کا ایک نہایت کمزور ساظل ہے اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی نظر میں صادق کیسے عزیز اور معتبر ہوتے ہیں وہ افسر یا ملازم جن کو گورنمنٹ نے خود کسی جگہ کا حاکم مقرر فرمایا ہوتا ہے وہ کس دلیری سے کام کرتا ہے اور ذرا بھی پوشیدگی پسند نہیں کرتا۔ مگر وہ ایک مصنوعی ڈپٹی کمشنر یا تھا نہ دار وغیرہ جو جعلی طور پر کسی جگہ خود بخود حاکم بن کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں کیا وہ گورنمنٹ کے سامنے ہو سکتے ہیں؟ جب گورنمنٹ کو یہ پتا لگے گا اس کو ذلیل کرے گی اور وہ ہتھکڑی لگ کر جیل خانہ میں یا اور سزا ملے گی۔ یہی حال ہے مذہبی راستی کا۔ جو خدا کی نظر میں صادق ہوتا ہے اس میں خدا کے نشان اور جرات اور صداقت کے آثار ہوتے ہیں وہ ہر وقت زندہ ہوتا ہے اور اس کی عزت ہوتی ہے۔ اصل میں خدا سے ڈرنے والے کو تو بڑے بڑے مشکلات ہوتے ہیں۔ انسان می کا مقام پاک صاف تو جب جا کر ہوتا ہے کہ اپنے ارادوں کو اور اپنی باتوں کو بالکل ترک کر کے خدا کے ارادوں کو اسی کی رضا کے حصول کے واسطے فنافی اللہ ہو جاوے۔خودی اور تکبر اور نخوت سب اس کے اندر سے نکل جاوے۔ اس کی آنکھ ادھر دیکھے جدھر خدا کا حکم ہو۔ اس کے کان ادھر لگیں جدھر اس کے آقا کا فرمان ہو۔ اس کی زبان حق و حکمت کے بیان کرنے کو کھلے۔ اس کے بغیر نہ چلے جب تک اس کے لیے خدا کا اذن نہ ہو اس کا کھانا، پہننا، سونا، پینا، مباشرت وغیرہ کرنا سب اس واسطے ہو کہ خدا نے حکم دیا ہے اس واسطے نہ کھائے کہ بھوک لگی ہے بلکہ اس لیے کہ خدا کہتا ہے۔ غرض جب تک مرنے سے پہلے مر کر نہ دکھاوے تب تک اس درجہ تک نہیں پہنچتا کہ متقی ہو۔