ملفوظات (جلد 4) — Page 243
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۳ جلد چهارم ۲۷ فروری ۱۹۰۳ء (قبل از عصر) مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی کہ حضور اردو کتابوں کا تو کبھی بھی پروف نہیں آتا۔ فرمایا۔ اردو کیا بھیجنا ہوتا ہے وہ تو صاف ہوتا ہے۔ اردو میں پنجابی الفاظ کا استعمال ہاں بعض نادان اتنا اکثر اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ اردو میں پنجابی ملا دیتے ہیں مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ ایک شخص نے میری طرف سے کسی ایسے ہی معترض کو جواب دیا کہ تم انصاف کرو کہ اگر وہ اردو میں پنجابی کے الفاظ ملا دیتے ہیں تو غضب کیا ہوا؟ ان کی ملکی اور مادری زبان ہے اس کا کیا حق نہیں؟ جب وہ انگریزی یا عربی اور دوسرے کی زبان کا کوئی لفظ اردو میں ملاتے ہیں تو تم اعتراض نہیں کرتے مگر جب کوئی پنجابی کا لفظ مل جاوے تو اعتراض کرتے ہو ۔ شرم تو کرو یہ اگر تعصب نہیں تو کیا ہے۔ در بار شام) ایک شخص نے خط لکھا تھا کہ حضور مجھے کرا یہ بھیجا جاوے۔ میں حاضر خدمت اپنا بوجھ خود اٹھائیں ہوں گا۔ فرمایا مَنْ جَرَّبَ الْمُجَرَّبَ حَلَّتْ بِهِ النَّدَامَةُ ہم نے بار بار ایسے لوگوں کا تجربہ کر لیا ہے کہ ان میں اخلاص اور نیک نیتی نہیں ہوتی تو کیا ضرورت ہے کہ اس طرح پر روپیہ ضائع کیا جاوے وہی روپیہ دینی کام میں خرچ ہوگا۔ کیا ایسا شخص جو معزز ہے وہ ہمارے حافظ معین الدین سے بھی گیا گذرا ہے یہ بھی ہمیں قریباً پندرہ یا میں روپے دے چکا ہے کبھی دو آنے اور کبھی ایک آنہ ماہوار دیتا ہے۔ تو ایسے بیکس شخص جب لنگر اور دیگر اخراجات کے واسطے کچھ دے سکتے ہیں۔ تو وہ شخص کیوں اپنا بوجھ نہیں سنبھال سکتا ؟ اور شریعت نے تو بوجھ بھی نہیں ڈالا ۔ حج کی توفیق نہ ہو تو حج بھی ساقط ہو جاتا ہے اسی طرح اس جگہ بھی گھر بیٹھے بٹھائے بیعت ہو سکتی ہے صرف ایک پیسہ کا کارڈ صرف ہوتا ہے۔