ملفوظات (جلد 4) — Page 229
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۹ جلد چهارم دیتا اور اندر ایک روشنی پیدا کرتا ہے۔ یہ طریق استجابت دعا کا رکھا ہے۔ ضرور ہے کہ انسان پہلے حالت بیماری کو محسوس کرے اور پھر طبیب کو شناخت کرے سعید وہی ہے جو اپنے مرض اور طبیب کو شناخت کرتا ہے۔ اس وقت دنیا کی حالت بگڑی ہوئی ہے۔ جن باتوں پر خدا نے چاہا تھا کہ قائم ہوں ان کو چھوڑا گیا ہے۔ باہر سے وہ ایک پھوڑے کی طرح نظر آتے ہیں جو چمکتا ہے مگر اس کے اندر پیپ ہے یا قبر کی طرح ہیں کہ جس کے اندر بجز ہڈیوں کے کچھ نہیں ۔ ایسا ہی حال اخلاقی حالتوں کا ہے غیظ و غضب میں آکر گندی گالیاں دینے لگتا ہے اور اعتدال سے گزر جاتا ہے۔ اصل مدعا تو یہ ہونا چاہیے کہ نفس مطمئنہ کی حالت والا ہی بڑا سعید اور با مراد ہے انسان نفس مطمئنہ حاصل کرے۔ نفس تین قسم کے ہیں ۔ اتارہ - لوامہ ۔ مطمئنہ ۔ بہت بڑا حصہ دنیا کا نفس امارہ کے نیچے ہے۔ اور بعض جن پر خدا کا فضل ہوا ہے وہ لوامہ کے نیچے ہیں یہ لوگ بھی سعادت سے حصہ رکھتے ر ہیں ۔ بڑا بد بخت وہ ہے جو بدی کو محسوس ہی نہیں کرتا یعنی جو اتارہ کے ماتحت ہیں ۔ اور بڑا ہی سعید اور با مراد وہ ہے جو نفس مطمئنہ کی حالت میں ہے۔ نفس مطمئنہ کو ہی خدا نے فرمایا يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر : ۲۷ تا ۲۹) یعنی اے وہ نفس جو اطمینان یافتہ ہے۔ اس حالت میں شیطان کے ساتھ جو جنگ ہوتی ہے اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور خطاب کے لائق تو مطمئنہ ہی ٹھہرایا ہے۔ اور اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مطمئنہ کی حالت میں مکالمہ الہی کے لائق ہو جاتا ہے۔ خدا کی طرف واپس آ ، کے معنی یہی نہیں کہ مر جا بلکہ تو امہ اور اتارہ کی حالت میں جو خدا تعالیٰ سے ایک بعد ہوتا ہے مطمئنہ کی حالت میں وہ مہجوری نہیں رہتی اور کوئی غبار باقی نہ رہ کر غیب کی آواز اس کو بلاتی ہے۔ تو مجھ سے راضی اور میں تجھ سے راضی ، یہ رضا کا انتہائی مقام ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب میرے بندوں میں داخل