ملفوظات (جلد 4) — Page 228
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۸ جلد چهارم پیدا نہیں کرتا تو پھر اپنی پیدائش کو عبث سمجھتا ہے اور اگر اس مجلس میں وہ ایمان نہیں ہے تو اس پر حرام ہے کہ دوسری مجلس کو تلاش نہ کرے۔ خدا نے مجھے اسی لیے مامور کیا ہے کہ تقویٰ پیدا ہو اور خدا پر سچا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے پیدا ہو۔ خدا تعالیٰ تاوان نہیں چاہتا بلکہ سچا تقویٰ چاہتا ہے۔ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ تو بہ کرتے وقت گواہ رکھ لیتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تو ایسا کیوں کرتا ہے؟ اس نے کہا۔ میں نے اس لیے یہ کیا ہے کہ شاید اس تو بہ کو توڑتے وقت اس گواہ سے ہی کچھ شرم آ جائے لیکن آخر دیکھا کہ وہ ان کی بھی پروانہ کر کے تو بہ توڑتا کیونکہ اصل شرم تو خدا تعالیٰ سے ہونی چاہیے۔ جب خدا سے نہیں ڈرتا اور شرم کرتا تو اور کسی سے کیا کرے گا۔ ایسے لوگوں کی وہی مثال ہے۔ چه خوش گفت درویش کوتاه دست که شب توبه کرد و سحر گاه شکست جو لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں ان کو سب سے بڑا فائدہ تو یہ مامور کی دعاؤں کا اثر ہوتا ہے کہ میں ان کے لیے دعا کرتا ہوں۔ دعا ایسی چیز ہے کہ خشک لکڑی کو بھی سرسبز کر سکتی ہے اور مردہ کو زندہ کر سکتی ہے۔ اس میں بڑی تاثیریں ہیں جہاں تک قضاء وقدر کے سلسلہ کو اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کوئی کیسا ہی معصیت میں غرق ہو دعا اس کو بچالے گی ۔ اللہ تعالیٰ اس کی دستگیری کرے گا اور وہ خود محسوس کرلے گا کہ میں اب اور ہوں ۔ دیکھو! جو شخص مسموم ہے کیا وہ اپنا علاج آپ کر سکتا ہے اس کا علاج تو دوسرا ہی کرے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تطہیر کے لیے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور مامور کی دعا ئیں تطہیر کا بہت بڑا ذریعہ ہوتی ہیں ۔ یہ دعا کرنا اور کرانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ دعا کے لیے جب درد سے دل بھر اسم اعظم جاتا ہے اور سارے حجابوں کوتوڑ دیتا ہے اس وقت مجھنا چاہیے کہ دعا قبول ہوگئی یہ اسم اعظم ہے۔ اس کے سامنے کوئی ان ہونی چیز نہیں ہے۔ ایک خبیث کے لیے جب دعا کے ایسے اسباب میسر آجائیں تو یقیناً وہ صالح ہو جاوے اور بغیر دعا کے وہ اپنی توبہ پر بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ بیمار اور محجوب اپنی دستگیری آپ نہیں کر سکتا ۔ سنت اللہ کے موافق یہی ہوتا ہے کہ جب دعا ئیں انتہا تک پہنچتی ہیں تو ایک شعلہ نور کا اس کے دل پر گرتا ہے جو اس کی ساری خباثتوں کو جلا کر تاریکی دور کر