ملفوظات (جلد 4) — Page 201
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۱ جلد چهارم جو کچھ دکھاتا ہے انسان اس کی مثل نہیں لا سکتا میری تائید میں ایک نوع سے ڈیڑھ سو اور ایک نوع سے ایک لاکھ نشانات ظاہر ہوئے ہیں ۔ کے حضرت اقدس ۔ اچھا کیا آپ نے دو تین روز کا معم ارادہ کر لیا ہے؟ نو وارد کل کچھ عرض کروں گا۔ حضرت۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ جو دور دراز سے آئے ہیں کچھ واقفیت ضرور ہونی چاہیے ۔ کم از کم تین دن آپ رہ جائیں ۔ میں یہی نصیحت کرتا ہوں ا کرتا ہوں اور اگر اور نہیں تو آمدن ۔ مدن با رادت و رفتن با جازت ہی پر عمل کریں۔ نو وارد ۔ میں نے یہاں آکر اول دریافت کر لیا تھا کہ کوئی امر شرک کا نہیں۔ اس لیے میں ٹھہر گیا کیونکہ شرک سے مجھے سخت نفرت ہے۔ ۔ حضرت اقدس نے پھر جماعت کو خطاب کر کے فرمایا کہ میرے اصول کے موافق اگر کوئی مہمان آوے اور سب وشتم تک بھی نوبت پہنچ جاوے تو اس کو گوارا کرنا چاہیے کیونکہ وہ مریدوں میں تو داخل نہیں ہے ۔ ہمارا کیا حق ہے کہ اس سے وہ ادب اور ارادت چاہیں جو مریدوں سے چاہتے ل البدر میں ہے۔ سوایسے نشان ہم نے نزول المسیح میں لکھے ہیں اور ایک طریق سے دیکھا جاوے تو یہ نشان کئی لاکھ موجود ہیں۔ آپ ایک دو دن ٹھہریں اور دیکھ لیویں “ محمد یوسف صاحب ۔ اجی جناب میں ٹھیر کر کیا کروں گا۔ اکیلا آدمی ہوں اور یہاں یہ جوش و خروش ۔ میں ڈرتا تو کسی یا سے نہیں مگر ایسا ہی لگتا ہے تو میں ابھی تار دے کر اپنے دوستوں کو بلا لیتا ہوں ۔ ناظرین پر واضح ہو کہ اس اثناء میں جب کہ ہمارے جو شیلے احمدی بھائی نے ان نئے سائل کو غیرت مندانہ جواب دیا تھا تو حضرت اقدس نے ان کو چپ کروا دیا تھا۔ پھر محمد یوسف صاحب کے اس اعتراض پر فرمایا۔ حضرت اقدس ۔ یہ تقاضائے محبت ہے کچھ اور نہیں۔ محبت میں ایسا ہوا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی اس کی نظیر دیکھی جاتی ہے کہ ابوبکر جیسا شخص جو کہ غایت درجہ کا مؤدب تھا جب اس کے سامنے ایک عرب کے سر بر آوردہ شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کو ہاتھ لگا کر کہا کہ تو نے ان مختلف لوگوں کا جتھا بنا کر جو عرب کی قوم کا مقابلہ کرنا چاہا ہ غلطی ہے تو حضرت ابو بکر نے اس وقت بڑے غصہ میں آکرا سے کہا امْصُصْ بِبَطْرِ اللَّاتِ ( یہ عرب میں ایک گالی ہوتی ہے ) آپ کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ کس قدر نقصان برداشت کر کے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ محبت ہے جس نے بٹھایا ہوا ہے۔ آپ نو وارد اور یہ قابلِ احترام البدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵۱)