ملفوظات (جلد 4) — Page 200
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۰ جلد چهارم نو وارد ۔ بے ادبی معاف ۔ آپ کی زبان سے قاف ادا نہیں ہو سکتا۔ حضرت اقدس ۔ یہ بیہودہ باتیں ہیں ۔ لے میں لکھنو کار لے میں لکھنو کا رہنے والا تو نہ ا تو نہیں ہوں کہ میرا لہجہ لکھنوی : - ہو۔ میں تو پنجابی ہوں ۔ حضرت موسیٰ پر بھی یہ اعتراض ہوا کہ لا يَكَادُ يُبينُ (الزخرف:۵۳) اور احادیث میں مہدی کی نسبت بھی آیا ہے کہ اس کی زبان میں لکنت ہوگی ۔ ( اس مقام پر ہمارے ایک مخلص مخدوم کو یہ اعتراض حسن ارادت کی وجہ اور غیرت عقیدہ کے سبب سے ناگوار گزرا۔ اور وہ شوء ادبی کو برداشت نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حضرت اقدس کا ہی حوصلہ ہے۔ اس پر نو وارد صاحب کو بھی طیش سا آگیا اور انہوں نے بخیال خویش یہ سمجھا کہ انہوں نے غصہ سے کہا ہے اور کہا کہ میں اعتقاد نہیں رکھتا اور حضرت اقدس سے مخاطب ہو کر کہا کہ استہزا اور گالیاں سننا انبیاء کا ورثہ ہے۔) حضرت اقدس ۔ ہم ناراض نہیں ہوئے یہاں تو خاکساری ہے۔ نو وارد ۔ میں تو لكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي (البقرۃ: ۲۶۱) کی تفسیر چاہتا ہوں ۔ حضرت اقدس ۔ میں آپ سے یہی توقع رکھتا ہوں مگر اللہ جل شانہ نے اطمینان کا ایک ہی طریق نہیں رکھا ۔ موسیٰ علیہ السلام کو اور معجزات دیئے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو اور معجزات دیئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اور قسم کے نشان بخشے ۔ میرے نزدیک وہ شخص کذاب ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں اور کوئی معجزہ اور تائیدات اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو ۔ مگر یہ بھی میرا مذہب نہیں کہ معجزات ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں اور میں اس کا قائل نہیں کیونکہ قرآن شریف سے یہ امر ثابت نہیں کہ ہر اقتراح کا جواب دیا جاتا ہے۔ مداری ہے کی طرح یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیے گئے کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور وہاں سے کتاب لے آئیں یا یہ کہ تمہارا سونے کا گھر ہو یا یہ کہ مکہ میں نہر آجاوے مگر ان کا جواب کیا ملا ؟ یہی هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا (بنی اسرآءيل: ۹۴)۔ انسان کو مؤدب با دب انبیاء ہونا چاہیے ۔ خدا تعالیٰ دو دو ل البدر میں ہے ۔ ” یہ ایک بیہودہ اعتراض ہے“ البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۴۵) کے البدر میں ہے ۔ معجزات مداری کا کھیل نہیں کہ جو کچھ اس سے مانگا اس نے جھٹ ٹوکرے یا تھیلے میں سے نکال البدر جلد ۲ نمبرے مورخہ ۶ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ ۵۱) کر دکھا دیا ۔“ 66