ملفوظات (جلد 4) — Page 177
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۷ جلد چهارم ( قبل از عشاء ) جہلم سے مقدمہ کے فیصلہ کی نقل منگوائی گئی تھی ۔ اس وقت وہ حضرت اقدس سنتے رہے۔ کسی نے کہا کہ اس پر ہم نالش کر سکتے ہیں ۔ حضرت نے فرمایا کہ ہم نالش نہیں کرتے یہ تو اسرار الہی ہیں ایک برس سے خدا نے اس مقدمہ کو مختلف پیراؤں میں ظاہر کیا ہے۔ اب کیا معلوم کہ وہ اس کے ذریعے سے کیا کیا اظہار کرے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فعل مقدر خدا کی طرف سے تھا۔ قانون کے ذکر پر فرمایا کہ واضعان قانون نے بڑی دانشمندی سے کام لیا ہے کہ مذہبی امور کو دنیاوی امور سے الگ رکھا ہے۔ کیونکہ مذہبی عالم کی باتوں کا دارو مدار تو آخرت کے متعلق ہوتا ہے نہ کہ دنیا کے متعلق ۔ مقدمات کے فیصلوں کی نسبت فرمایا کہ میرا اپنا اُصول یہ ہے کہ بدتر سے بدتر انسان بھی اگر مقدمہ کرے تو اس میں تصرف اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے اس سے فیصلہ لکھواتا ہے۔ انسان پر بھروسا شرک ہے بلکہ اگر ایک بھیڑیے کے پاس بھی مقدمہ جاوے تو اس کو خدا سمجھ عطا کر دے گا ۔ اے ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ء بروز جمعه ( بوقت عصر ) اس وقت آپ نے آکر ارشاد فرمایا کہ جو الہام مجھ کو بھول گیا تھا آج یاد کیا ہے اور وہ یہ ہے اِنَّ اللهَ مَعَ عِبَادِهِ يُوَاسِيكَ - یعنی الله اپنے بندوں کے ساتھ ہے اور تیری غمخواری کرے گا۔ ہے ل البدر جلد ۲ نمبرے مورخہ ۶ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵۰،۴۹ البدر جلد ۲ نمبرے مورخہ ۶ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ ۵۰