ملفوظات (جلد 4) — Page 175
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۵ جلد چهارم ہر ایک کی آبر وحتی کہ اپنے دشمن کی آبروداری کا بھی کسی قدر خیال ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اسی قتل کے مقدمہ میں ہمارے ایک مخالف گواہ کی وقعت کو عدالت میں کم کرنے کی نیت سے ہمارے وکیل نے چاہا کہ اس کی ماں کا نام دریافت کرے مگر میں نے اسے سوال کرنے سے روکا اور کہا کہ ایسا سوال نہ کرو جس کا جواب وہ مطلق دے ہی نہ سکے اور ایسا داغ ہرگز نہ لگاؤ جس سے اسے مفر نہ ہو۔ حالانکہ ان ہی لوگوں نے میرے پر جھوٹے الزام لگائے ۔ جھوٹا مقدمہ بنایا۔ افترا باندھے اور قتل اور قید میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ میری عزت پر کیا کیا حملے کر چکے ہوئے تھے۔ اب بتلاؤ کہ میرے پر کون سا خوف ایسا طاری تھا کہ میں نے اپنے وکیل کو ایسا سوال کرنے سے روک دیا۔ صرف بات یہ تھی کہ میں اس بات پر قائم ہوں کہ کسی پر ایسا حملہ نہ ہو کہ واقعی طور پر اس کے دل کو صدمہ دیوے اور اسے کوئی راہ مفر کی نہ ہو۔ لے اس پر ایک مخلص خادم نے عرض کی کہ حضور میرا دل تو اب بھی خفا ہوتا ہے کہ یہ سوال کیوں اس پر نہ کیا گیا؟ تواب یہ آپ نے فرمایا کہ میرے دل نے گوارا نہ کیا۔ اُس نے پھر کہا کہ یہ سوال ضرور ہونا چاہیے تھا پ نے فرمایا کہ خدا نے دل ہی ایسا بنایا ہے تو بتلاؤ میں کیا کروں۔ آپ ایک صاحب آمده از جالندھر نے عرض کی کہ حضور وہاں شحنہ ہند نے بہت سے آدمیوں کو روک رکھا ہے اس کا کیا علاج کریں۔ فرمایا۔صبر کرو۔ ایسا ہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں لوگ تو آپ کی مذمت کیا کرتے تھے کے مگر آپ ہنس کر فرمایا کرتے کہ ان کی مذمت کو کیا کروں میرا نام تو خدا نے اول ہی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) رکھ دیا ہوا ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے مجھے بھی الہام کیا جو کہ آج سے بائیس برس پیشتر کا براہین میں لے الحکم میں یہ مضمون یوں درج ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ ہم اس امر کو نہایت مکروہ سمجھتے ہیں کہ کسی کی نسبت وہ اعتراض کیا جائے جس کی اصلاح اس کے امکان و قدرت میں نہیں الحکم جلدے نمبر ۶ مورخه ۱۴ رفروری ۱۹۰۳ صفحه ۵ ) الحکم میں ہے۔ آپ کو نعوذ باللہ منعم کہا کرتے تھے۔ (الحکم جلدے نمبر ۶ مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۵)