ملفوظات (جلد 4) — Page 161
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۱ جلد چهارم عجب حیرت ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ یہاں تازہ بتازہ سامان تقویٰ کے جماعت کے واسطے طیار کر رہا ہے اُس طرف (یعنی منکرین کی طرف) اس کا کوئی نشان بھی نہیں ہے یہ لوگ الہام اور تقویٰ سے دور ہوتے جاتے ہیں اگر اب ان سے پوچھا جاوے کہ اہل حق کی کیا علامات ہیں؟ تو ہرگز نہیں بتلا سکتے اور نہ اس بات پر قادر ہو سکتے ہیں کہ صادق اور کاذب کے درمیان کوئی ما بہ الامتیاز قائم کریں۔ ہماری مخالفت میں یہ حالت ہے کہ جو کچھ صادق کے لئے خدا نے مقرر کیا تھا اب ان کے نزد یک گویا کا ذب کو دے دیا گیا ہے۔ جس قدر نکتہ چینیاں بیان کرتے ہیں وہ تمام پیغمبروں پر صادق آئی ہیں۔ کمتر تقویٰ ان کے لیے یہ تھا کہ خاموش رہتے اگر ہم کا ذب ہوتے تو رفتہ رفتہ خود تباہ ہو جاتے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم (بنی اسراءیل : ۳۷) یہاں علم سے مراد یقین ہے اب ان کی وہی مثال ہے لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِهَا (الاعراف: ۱۸۰)۔ مقدمہ جہلم پر جو بعض خلاف واقعہ با خلاف واقعہ باتیں اخبارات نے لکھی تھیں ان پر فرمایا کہ اس شور و غوغا کا جواب بجز خاموشی کے اور کیا ہے اُفَوِّضُ أَمْرِی إِلَى اللهِ - اس کے بعد ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ میرے باپ اور قوم کے واسطے ہدایت کی دعا کی جاوے حضرت اقدس نے اسی وقت دست مبارک اٹھا کر دعا کی اور کل حاضرین مجلس بھی شریک ہوئے۔ حضرت کی خدمت میں ایک شخص کی شکایت ہوئی کہ یہ دعوی تو بیعت کا کرتا ہے مگر اس کی زبان سے بعض ۔ ایسے کلمات نکلتے ہیں جس سے کوئی خصوصیت حضور کے دعاوی کی تصدیق کی معلوم نہیں ہوتی ۔ فرمایا ۔ ایسے مشکوک الحال آدمی کا رکھنا اچھا نہیں ۔ مگر جب اس نے معذرت کی اور کہا کہ یہ امر غلطی سے ایسا سمجھا گیا ہے تو فرمایا۔ ایسی باتوں سے انسان بیعت سے خارج ہو جاتا ہے ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے اور اسے معاف کر دیا ۔ ہے لے الحکم میں اس آیت کی تشریح بزبان فارسی دیکھی ہے۔ مراد از علم یقین است ۔ ظنون را علم نمی گویند ۔ ایناں اتباع ظن میکنند إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ( يونس : ٣٧) الحکم جلدے نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۴) البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳۶