ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 160

ملفوظات حضرت مسیح موعود ١٦٠ جلد چهارم تهیدست ہوئے ہیں کہ کوئی خوبی صادق کی بیان کر ہی نہیں سکتے ۔ ایک لے بعض متفرق رویا سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتلا کے دن ہیں ۔ رات کو میں نے دیکھا مبشر رویا ایک راز کہ آیا گراس سے کسی عمات وغیرہ کا نقصان نہیں ہوا۔ ہلے ۲۳ جنوری ۱۹۰۳ء بروز جمعه ( بوقت عصر ) اس وقت ایک عرب کی طرف سے ایک خط حضرت کی خدمت ہمیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں ہیں میں آیا جس میں لکھا تھا کہ اگر آپ ایک ہزار روپے مجھے بھیج مجھے کر اپنا وکیل یہاں مقرر کر دیویں تو میں آپ کے مشن کی اشاعت کروں گا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ تو ان کو لکھ دو ہمیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں ایک ہی ہمارا وکیل ہے جو عرصہ بائیس سال سے اشاعت کر رہا ہے اس کے ہوتے ہوئے اور کی کیا ضرورت ہے اور اس نے کہہ بھی رکھا ہے اکیس الله بِكَافٍ عَبْدَة - ( قبل از عشاء ) حضرت اقدس نے عجب خان صاحب تحصیلدار سے استفسار فرمایا کہ آپ کی رخصت کس قدر ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ چار ماہ ۔ فرمایا کہ آپ کو تو پھر بہت دیر یہاں رہنا چاہیے تا کہ پوری واقفیت ہو۔ ؟ لے الحکم میں ہے۔ ایک مبشر رویا ۔ فرمایا۔ میں نے دیکھا کہ زار روس کا سونٹا میرے ہاتھ میں آگیا ہے وہ بڑا لمبا میں اور خوبصورت ہے پھر میں نے غور سے دیکھا تو وہ بندوق ہے اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بندوق ہے بلکہ اس : پوشیدہ نالیاں بھی ہیں گویا بظاہر سونٹا معلوم ہوتا ہے اور وہ بندوق بھی ہے۔ اور پھر دیکھا کہ خوارزم بادشاہ جو بوعلی سینا کے وقت میں تھا اس کی تیرکمان میرے ہاتھ میں ہے۔ بو علی سینا بھی پاس ہی کھڑا ہے اور اس تیر کمان سے میں نے ایک شیر کو بھی شکار کیا ۔“ الحکم جلد کے نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ ) ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۶،۳۵ 66