ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 135

ملفوظات حضرت مسیح موعود الله جلد چهارم کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کی عبادت میں اس ۔ کہ اس کی عبادت میں اس کے لیے ایک لذت اور سرور نہ ہو؟ لذت اور سرور تو ہے مگر اس سے حظ اُٹھانے والا بھی تو ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريت: ۵۷) اب انسان جب کہ عبادت ہی کے لیے پیدا ہوا ہے، ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سرور بھی درجہ غایت کا رکھتا ہو۔ اس بات کو ہم اپنے روزمرہ کے مشاہدہ اور تجربہ سے خوب سمجھ سکتے ہیں مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشید نی اشیاء انسان کے لیے پیدا کی ہیں تو کیا ان سے وہ ایک لذت اور حظ نہیں پاتا ہے؟ کیا اُس ذائقہ اور مزے کے احساس کے لیے اُس کے منہ میں زبان موجود نہیں؟ کیا وہ خوبصورت اشیاء کو دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات ، حیوانات ہوں یا انسان حظ نہیں پاتا؟ کیا دل خوش گن اور سریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اس امر کے اثبات کے لیے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو رغبت دی ہے۔ اب اس میں زبردستی نہیں کی بلکہ ایک لذت بھی رکھ دی ہے۔ اگر محض توالد و تناسل ہی مقصود بالذات ہوتا تو مطلب پورا نہ ہو سکتا۔ عورت اور مرد کی برہنگی کی حالت میں ان کی غیرت قبول نہ کرتی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق پیدا کریں ۔ مگر اس میں اُن کے لیے ایک حظ ہے اور ایک لذت ہے۔ یہ حظ اور لذت اس درجہ تک پہنچی ہے کہ بعض کو تاہ اندیش انسان اولاد کی بھی پروا اور خیال نہیں کرتے بلکہ ان کو صرف حظ سے ہی کام اور غرض ہے۔ خدائے تعالیٰ کی علت غائی بندوں کا پیدا کرنا تھا اور اس سب کے لیے ایک تعلق عورت اور مرد میں قائم کیا اور ضمناً اس میں ایک حظ رکھ دیا جو اکثر نادانوں کے لیے مقصود بالذات ہو گیا ہے۔ اسی طرح سے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں ۔ اس میں بھی ایک لذت اور لو اور ۔ سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالاتر اور بالاتر ہے۔ جیسے عورت اور مرد کے باہم تعلقات میں ایک لذت ہے اور اس سے وہی بہرہ مند ہو سکتا ہے جو مرد ہے اور اپنے قومی صحیحہ رکھتا ہے۔ ایک نامرد اور مخنث وہ حفظ نہیں پا سکتا اور جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کم بخت انسان ہے جو