ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 134

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۴ جلد چهارم ہے۔ جس طرح پر ہم ادویات کے اثر کو تجربہ کے ذریعہ سے پالیتے ہیں اسی طرح پر ایک مضطرب الحال انسان جب خدائے تعالیٰ کے آستانہ پر نہایت تذلل اور نیستی کے ساتھ گرتا ہے اور ربی ربی کہہ کر اس کو پکارتا اور دعائیں مانگتا ہے تو وہ رویائے صالحہ یا الہام صحیح کے ذریعہ سے ایک بشارت اور تسلی پالیتا ہے۔ میں نے اپنے ساتھ بارہا اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ دیکھا ہے کہ جب میں نے کرب وقلق سے کوئی دعا مانگی اللہ تعالیٰ نے مجھے رؤیا کے ذریعہ سے آگاہی بخشی۔ ہاں قلق اور اضطرار اپنے بس میں نہیں ہوتا۔ اس کا انشا بھی فعلِ الہی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب صبر اور صدق کے ساتھ دعا انتہا کو پہنچے تو وہ قبول ہو جاتی ہے۔ دعا، صدقہ اور خیرات سے عذاب کا ٹلنا ایک ایسی ثابت شدہ صداقت ہے جس پر ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی کا اتفاق ہے اور کروڑ ہا صلحاء واتقیاء اور اولیاء اللہ کے ذاتی تجر بے اس امر پر گواہ ہیں۔ نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کو بادشاہوں نماز کی لذت اور سرور کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔ نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدائے تعالی کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے اس کی غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو ۔ بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ کہ وہ اس طریق سے اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آجکل عبادت اور تقوی اور دینداری سے محبت نہیں ہے اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہو رہی ہے اور عبادت میں بت سرد ہورہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہیے وہ مزا نہیں آتا ۔ دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذت اور ایک خاص حظ اللہ تعالیٰ نے رکھا نہ ہو۔ جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیز کا مزہ نہیں اُٹھا سکتا اور وہ اسے تلخ یا بالکل پھیکا سمجھتا ہے اسی طرح سے وہ لوگ جو عبادت الہی میں حظ اور لذت نہیں پاتے ان کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس میں خدائے تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذت نہ رکھی ہو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا