ملفوظات (جلد 4) — Page 118
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۸ جلد چهارم جھوٹی حالت بنا کر کہے کہ میں عہدہ دار ہوں تو وہ پکڑا جاتا ہے اور اس کو سخت سزادی جاتی ہے لیکن کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ایک مفتری اللہ تعالیٰ پر افترا کرتا جاوے اور پھر نشان اوے اور پھر نشان بھی دکھاتا جاوے اور اسے کوئی نہ پکڑے۔ براہینِ احمدیہ کی اشاعت کو بیس برس کے قریب ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ گاؤں میں بھی ہم کو کوئی شناخت نہیں کرتا تھا۔ گاؤں والے موجود ہیں ۔ خود مولوی محمد حسین جس نے اس کتاب پر ریویو لکھا ہے زندہ موجود ہے اُس سے پوچھو کہ اس وقت کیا حال تھا۔ ایسے وقت خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ فوج در فوج لوگ تیرے پاس آئیں گے۔ يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ دور دراز سے تیرے پاس لوگ آئیں گے اور تحائف آئیں گے۔ اور پھر یہ بھی کہا لوگوں سے تھکنا مت۔ اب کوئی سوچے اور دیکھے کہ خدا تعالیٰ کے یہ وعدے کس طرح پر پورے ہوئے ہیں۔ ان فہرستوں کو گورنمنٹ کے پاس دیکھ لے جو آنے والے مہمانوں کی مرتب ہو کر ہفتہ وار جاتی ہیں اور ڈاک خانہ اور ریل کے رجسٹروں کی پڑتال کرے جس سے پتا لگے گا کہاں کہاں سے تحائف اور روپیہ آ رہا ہے اور قادیان میں بیٹھ کر دیکھیں کہ کسی قدر ہجوم اور انبوہ مخلوق کا ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی طرف سے بشارت اور قوت نہ ملے تو انسان تھک جاوے اور ملاقاتوں سے گھبرا اُٹھے ۔ مگر جیسے اُس نے یہ الہام کیا کہ گھبرانا نہ ویسے ہی قوت بھی عطا کی کہ گھبراہٹ ہوتی ہی نہیں اور ایسا ہی انگریزی، اردو، عربی، عبرانی میں بہت سے الہامات ہوئے جو اُس وقت سے چھپے ہوئے موجود ہیں اور پورے ہو رہے ہیں ۔ اب خدا ترس دل لے کر میرے معاملہ پر غور کرتے تو ایک نوران کی رہبری کرتا اور خدا کی روح ان پر سکینت اور اطمینان کی راہیں کھول دیتی ۔ وہ دیکھتے کے کیا یہ انسانی طاقت کے اندر ہے جو اس قسم کی پیشگوئی کرے؟ انسان کو اپنی زندگی کے ایک دم کا بھروسا نہیں انسان کو زندگی کے دم کا بھروسا ہو سکتا تو یہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ تیرے پاس دور دراز سے مخلوق آئے گی اور ایسے زمانے میں خبر دیتا ہے جب کہ وہ محبوب ہے اور اس کو کوئی اپنے گاؤں میں بھی شناخت نہیں کرتا۔ پھر وہ پیشگوئی پوری ہوتی ہے اس کی مخالفت میں ناخنوں تک زور لگایا جاتا ہے اور اس کے تباہ کرنے اور معدوم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی مگر اللہ تعالیٰ اس کو برومند کرتا اور ہر نئی مخالفت پر اس کو عظیم الشان